محل سے کھنڈر
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳
محل سے کھنڈر
اندلس کے مسلم حکمرانوں میں سلطان عبدالرحمن ثالث بہت مشہور ہے ۔ وہ ۳۰۰ ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور ۳۵۰ ھ میں بہتر سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس کی ایک عیسائی بیوی تھی جس کا نام زہرا تھا۔ سلطان نے اپنی اس بیوی کے نام پر قرطبہ کے کنارے ایک شاندار محل تعمیر کیا اور اس کا نام الزہرا رکھا۔ چار میل لمبا اور تین میل چوڑا یہ محل اتنا بڑا تھا کہ اس کو قصر الزہرا ر کے بجائے مدینۃ الزہرا ر کہنے لگے ۔ اس محل کی تعمیر ۳۲۵ ھ میں شروع ہوئی اور پچیس سال میں ۳۵۰ ھ میں مکمل ہوئی ۔ المقری نے اس محل کی جو تفصیلات لکھی ہیں اس کے لحاظ سے یہ محل الف لیلہ کا کوئی طلسماتی شہر معلوم ہوتا ہے۔ اس محل کے بنانے پر دس ہزار معمار، چار ہزار اونٹ اور خچر روزانہ کام کرتے تھے۔ اس میں ۴۳۱۶ برج اور ستون تھے۔ سنگ مرمر اور دوسرے بہت سے قیمتی سامان فرانس، ترکی، یونان، شام اور افریقہ کے ملکوں کے بادشاہوں نے بطور تحفہ دئے تھے۔ اس کی چھتوں میں سونے چاندی کا کام اس کثرت سے کیا گیا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھ چمکتی تھی ۔ اس محل کے انتظام اور نگرانی کے لئے ۷۵۰۳ ، ۱۳ ملازم مقرر تھے۔ اس کے علاوہ ۱۳۳۸۲ غلام تھے ۔ حرم سرا کے اندر چھ ہزار عورتیں خدمت گزاری کے لئے حاضر رہا کرتی تھیں ۔ سارا قصر باغات اور فواروں سے گلزار رہتا تھا۔ یورپ اور دوسرے ملکوں کے سیاح کثرت سے اس کو دیکھنے کے لئے آتے رہتے تھے۔
مگر اس عظیم الشان محل کا انجام کیا ہوا۔ ۲۵ سال میں موجودہ معیار سے ایک کھرب روپیہ سے بھی زیادہ میں بننے والا محل صرف پچاس سال میں ختم ہو گیا ۔ اندلس کے مسلم حکمرانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے عیسائیوں نے ان کے اوپر قابو پالیا اور ان کو شکست دے کر ان کے نام ونشان تک کو مٹا ڈالا، قرطبہ کا الزہرا ر کھنڈر بنا دیا گیا۔ اس کے بعد اس پر زمانہ کی گرد پڑتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ نظروں سے غائب ہو گیا ۔ موجودہ زمانہ میں اس مقام کی کھدائی کی گئی ہے۔ مگر کھدائی کرنے والوں کو وہاں ٹوٹی ہوئی نالیوں کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
دنیا میں عیش و آرام کے نشانات کو مٹا کر خدا دکھاتا ہے کہ اس کی نظر میں یہاں کے عیش و آرام کی کوئی قیمت نہیں ، مگر کوئی آدمی اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر بعد والا عین اسی مقام پر اپنا عیش خانہ بنا۔ میں مصروف ہو جاتا ہے جہاں اس کے پیش رو کا عیش خانہ برباد ہوا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues