قدیم معقولات
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۱۷
کے بعد انھوں نے اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل کرلی۔
اسلام ادر غیر اسلام کے مقابلہ میں اسلام جیت گیا۔ یہ انداز کلام اگر چہ قرآن وحدیث کے لئے اجنبی تھا۔ تاہم اگر اس کی حیثیت ایک وقتی ہتھیار کی ہوتی تو اس سے اسلام کو کوئی حقیقی نقصان نہ ہوتا۔ مگر غلطی یہ ہوئی کہ اس کو اسلام کے نصاب تعلیم کا جز ربنادیا گیا۔ اب ایسے علماء پیدا ہونے لگے جو اس انداز کلام کے ماہر تھے۔ اس طرح اسلامی تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ ایک وقتی اہمیت کی چیز اسلام کا مستقل جز ر بنتی چلی گئی ، حتیٰ کہ وہ مقدس حیثیت اختیار کرگئی۔ اب اس کو بدلنا لوگوں کو ایسا ہی معلوم ہونے لگا جیسے قرآن و حدیث کو بدلنا ۔ " خدا اور اک کی علت ہے ۔ اور اک نفس کی علت ہے ۔ نفس فطرت کی علت ہے۔ فطرت تمام افراد اشیاء کی علت ہے اور پھر خدا ہر شے کی علت ہے " ، اس قسم کی پر پیچ باتیں کرنے والا عالم ہے ۔ اور جو ایسی باتیں نہ کر سکے وہ جاہل۔
اس کے بعد شدید تر غلطی یہ ہوئی کہ اسلامی علوم ، مثلاً علم عقائد ، علم فقہ، علم کلام اسی مخصوص فنی زبان میں مرتب کر دئے گئے ۔ چنانچہ آج کوئی شخص اصول فقہ کی کتابوں کو اس وقت تک سمجھ نہیں سکتا جب تک وہ اس چیز سے بخوبی واقف نہ ہو جس کو معقولات کہا جاتا ہے، یہاں پہنچ کر وہ چیز مسلمانوں کو قرآنی اسلام سے دور کرنے کا سبب بن گئی جس کو ابتداً ئی غیر مسلموں کو اسلام سے قریب لانے کے لئے ایک علمی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
آج کا مسلمان دو چیزوں کے درمیان ہے ۔ وہ یا تو قرآن وحدیث والے فطری اسلام کو لے اور منطقی اسلام کو چھوڑ دے یا منطقی اسلام کو لے اور قرآن وحدیث والے فطری اسلام کو چھوڑے رکھے۔ یہ یقینی ہے کہ بیک وقت وہ دونوں چیزوں کو نہیں لے سکتا۔ ایک چیز کو لینے کے لئے بہر حال اس کو دوسری چیز چھوڑنی پڑے گی۔
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اسلامی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ وہ اسلامیات کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان کے اندر قرآنی ذہن پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اسلامی مطالعہ کا مرکز قرآن ہے ہی نہیں۔ وہ قرآن یا اسلام کے مطالعہ کے نام پر مذکورہ بالا قسم کی فنی کتابیں پڑھتے ہیں نہ کہ اصل قرآن ۔ پھر جو اسلام وہ پڑھتے ہیں وہی ان کا دینی ذہن بنائے گا نہ کہ وہ اسلام جو انھوں نے پڑھا ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues