زبان جنت بھی ہے اور زبان جہنم بھی
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸
زبان جنت بھی ہے اور زبان جہنم بھی
حضرت ابوالدرداء انصاری نے فرمایا: مومن کے جسم کا کوئی حصہ اللہ کو اتنا محبوب نہیں جتنا کہ اس کی زبان ، اس کے ذریعہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اور کافر کے جسم کا کوئی حصہ اللہ کو اتنا مبغوض نہیں جتنا کہ اس کی زبان ، جس کے ذریعہ وہ اس کو آگ میں داخل کرے گا۔ (ما في المومن بضعة احب الى الله عز وجل من لسانه به يدخله الجنة وما في الكافر بضعة الابغض الى الله عز وجل من لسانه ، به يدخله النار، حلية الاولياء لابى نعيم جلد ۱)
چپ رہنا بھی ایک عمل ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چپ رہو الایہ کہ بھلی بات کہنا ہو (الصمت الا من خير) اللہ سے ڈرنے والا زبان کو روکنے والا ہوتا ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ مجھے نصیحت کیجئے ، انھوں نے کہا : اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو ، اپنی زبان کو روک لے اور اپنی خطاؤں کو یاد کر کے رویا کر( (ليسعك بيتك و اکفف لسانك و ابك علی ذكر خطيئتك ۔ حليتہ الاولیاء لابی نعیم)
سب سے زیادہ گناہ زبان سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انسان کی اکثر خطائیں زبان سے ہوتی ہیں (اكثر خطا يا ابن آدم من لسانه) خاموشی ایک علم ہے ابن عساکر نے حضرت ابو الدرداء انصاری سے نقل کیا ہے ۔ انھوں نے فرمایا ، تم خاموشی کو سیکھو جس طرح تم بولنا سیکھتے ہو۔ کیونکہ خاموشی بہت بڑی بر دباری ہے۔ اور تم سنانے سے زیادہ سننے کے حریص بنو ۔ اور تم ایسی چیز کے بارے میں بات مت کرو جس کا تمھیں کوئی فائدہ نہ ہو۔ اور عجب کے بغیر ہنسنے والانہ بن ۔ اور غیر حاجت کی طرف چلنے والا نہ بن (تعلموا الصمت كما تعلمون الكلام فان الصمت حلم عظيم وكن الى أن تسمع احرص منك الى أن تتكلم ولا تتكلم في شئ لا يعنيك ولا تكن مضحكا من غير عجب ولا مشار الى غير ادب كنز الاعمال جلد دوم)
کسی کو برے نام سے نہ پکارو
حضرت عطار بن یسارکہتے ہیں کہ جب حضرت صفیہ (زوجہ رسول) خیبر سے مدینہ آئیں تو حارثہ بن نعمان کے گھر اتاری گئیں ۔ جب انصار کی عورتوں نے یہ خبر سنی تو وہ ان کو دیکھنے کے لئے جمع ہوگئیں ۔ حضرت عائشہ بھی اپنے اوپر نقاب ڈالے ہوئے آئیں ۔ جب وہ دیکھ کر واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے عائشہ تم نے کیا دیکھا ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک یہودیہ دیکھی ۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو ، کیونکہ وہ اسلام لے آئی اور اس کا اسلام اچھا رہا (قالت : رايت يهودية ، فقال : لا تقولي ذلك ! فانها اسلمت وحسن اسلامها ، طبقات ابن سعد )
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues