Al-Risala · August 1982 · page 21

پاره ۱۱

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۱

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۝١٥ قُلْ لَوْ شَاءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُمْ بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝١٦ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ۝١٧ اور جب ان کو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہو کہ میرا یہ کام نہیں کہ میں اپنے جی سے اس کو بدل دوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ کہو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں اس کو تمھیں نہ سناتا اور نہ اللہ اس سے تمھیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تمھارے درمیان ایک عمر بسر کر چکا ہوں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے، اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ یقیناً مجرموں کو فلاح حاصل نہیں ہوتی ؀۱۷ - ۱۵ مکہ کے قریش خدا اور رسول کو مانتے تھے۔ وہ اپنے کو ملت ابراہیمی کا پیرو کہتے تھے۔ حتیٰ کہ اسلام کی بہت سی دینی اصطلاحیں مثلاً صلاۃ ، صوم، زکوٰۃ ، حج وغیرہ وہی ہیں جو پہلے سے ان کے یہاں رائج تھیں ۔ اس کے باوجود کیوں انھوں نے کہا کہ دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں کچھ ترمیم کر دو تب ہم اس کو مانیں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں خدا کے خالص دین کا اعلان تھا۔ جب کہ قریش خدا کے دین کے نام پر ایک ملاوٹی دین کو اختیار کئے ہوئے تھے۔

قرآن کی توحید سے ان کے مشرکانہ عقیدہ خدا پر زد پڑتی تھی۔ قرآن کے تصور عبادت کی روشنی میں ان کی عبادتیں محض کھیل تماشا معلوم ہوتی تھیں۔ وہ پیغمبر کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے اور قرآن اُن سے ایک ایسے پیغمبر کو ماننے کا مطالبہ کر رہا تھا جو ان کی عملی زندگی میں رہنما کا درجہ حاصل کرلے۔ انھوں نے کعبہ کی خدمت کو اپنی دینداری کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ رکھا تھا جب کہ قرآن نے بتایا کہ دین داری یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرے اور جو کچھ کرے آخرت کو سامنے رکھ کر کرے ۔

پاره ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page