پاره ۱۱
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۲
آدمی چند الفاظ بول کر حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسی کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں ”کھٹکا“ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی کے دل میں یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ وہ اپنے قول و فعل کے لئے خدا کے یہاں جواب دہ ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جائے گا۔ اور جو شخص سنجیدہ ہو وہ معاملہ کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھے گا، وہ سرسری طور پر اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ ؕ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ؕ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ يُشْرِكُـوْنَ﴿۱۸﴾وَمَا وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ؕ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ يَخْتَلِفُوْنَ﴿۱۹﴾ اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکیں اور نہ نفع پہنچا سکیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہو، کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اس کو آسمانوں اور زمین میں معلوم نہیں۔ وہ پاک اور برتر ہے اس سے جس کو وہ شریک کرتے ہیں۔ اور لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر انھوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان کے درمیان اس امر کا فیصلہ کر دیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ۱۹ - ۱۸ ہماری دنیا میں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ بظاہر مادی اسباب کے تحت ہو رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات کے پیچھے خدا کا تصرف کام کر رہا ہے۔ اس دنیا میں کسی کو کوئی ذاتی اختیار حاصل ہی نہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں سے گزر کر غیب میں چھپے ہوئے خدا کو پالے۔ اس کے مقابلہ میں شرک یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں میں اٹک کر رہ جائے۔ وہ چیزوں ہی کو چیزوں کے خالق کا مقام دے دے۔ اس دنیا میں خدا کے سوا کسی کے پاس نفع دینے یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں۔ جو آدمی اس حقیقت کو پالیتا ہے اس کی تمام توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ خدا ہی کی پرستش کرتا ہے۔ وہ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے امیدیں قائم کرتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ ایک خدا کو بنالیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ چیزوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنالیتے ہیں اور ان غیر خداؤں سے وہی امیدیں اور اندیشے وابستہ کر لیتے ہیں جو در حقیقت خدائے واحد کے ساتھ وابستہ کرنا چاہیے۔ اس کی ایک صورت شفاعت کا عقیدہ ہے۔ لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ انسانوں یا غیر انسانوں میں کچھ ایسی برتر ہستیاں ہیں جو خدا کی نظر میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues