Al-Risala · August 1982 · page 44

فلسطین : ایک علامت

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

فلسطین : ایک علامت

فلسطینی مسلمان ۱۹۴۸ء میں اپنے وطن فلسطین سے بے گھر کئے گئے۔ اس کے بعد وہ اطراف کے علاقوں مصر اور شام اور اردن سے نکالے گئے۔ لبنان ان کا آخری مرکز تھا، اب ۱۹۸۲ء میں وہ یہاں سے بھی نکلنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے ۳۵ سال سے ان پر جتنا ظلم ہورہا ہے اتنا ظلم شاید اسلامی تاریخ کے کسی دور میں کسی بھی مسلم گروہ پر نہیں ہوا۔

یہ معاملہ کوئی سادہ یا مقامی معاملہ نہیں۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس کا تعلق ساری دنیا کے مسلمانوں سے ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک انتباہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بحیثیت مجموعی خدائی عتاب کی زد میں ہیں اور فلسطینی مسلمانوں کا معاملہ اس کی ایک علامت ہے۔ خدا مسلمانوں کور دکر چکا ہے۔ اور یہ اس کے باوجود ہے کہ ان کے درمیان ایسے بزرگ موجود ہیں جو بین الاقوامی اسٹیج پر کھڑے ہو کر یہ تقریر کر رہے ہیں کہ اکتشفت الامۃ العربیۃ نفسها (عرب قوم نے اپنے آپ کو دریافت کر لیا) ان میں ایسے مفکرینِ اسلام موجود ہیں جو موجودہ عہد کو اسلام کا عہد بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کے درمیان آج اسلام کے نام پر اتنی سرگرمیاں جاری ہیں کہ وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ہم نے سارے عالم میں اسلام کی ہوائیں چلا دی ہیں۔

ظہورِ آیات کا مقام

محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین تھے۔ آپ کے بعد پچھلے انبیاء کی نبوتیں عملی طور پر منسوخ ہوگئیں۔ اب صرف آپ کی نبوت خدا کی نظر میں مستند نبوت ہے اور صرف آپ کی پیروی سے کسی کو نجات مل سکتی ہے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے ذریعہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ اپنے اس فیصلے کا ایک حسی مظاہرہ یا علامتی نمونہ دکھائے۔ چنانچہ اس کے لئے معراج میں یہ کیا گیا کہ سابقہ انبیاءکو ایک مقام پر جمع کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کی ہدایت پر ان کی امامت فرمائی اور تمام انبیا ء نے آپ کی قیادت میں آپ کے پیچھے نماز ادا کی (قد رأیتنی فی جماعة من الانبياء ۔ ۔۔ فكانت الصلوة فاممتهم ، صحیح مسلم)

امامت انبیاء کا یہ واقعہ کعبہ (عرب) میں بھی ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے لئے معراج ہوئی اور آپ کو بیت المقدس (فلسطین) لے جایا گیا۔ اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے ـــــــــ تاکہ ہم پیغمبر کو اپنی نشانیاں دکھائیں (لنریہ من آیاتنا ، اسراء ۱) بیت المقدس تاریخی طور پر وہ مقام بن چکا تھا جہاں امت یہود کے سلسلہ کی خدائی نشانیاں پچھلے ہزاروں سال سے ظاہر ہو رہی تھیں۔ اب معراج کے موقع پر

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page