Al-Risala · August 1982 · page 35

ظہورِ آیات کا مقام

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵

خود نبی آخرالزمان کو خدائی نشانی دکھانے کے لئے وہاں لے جانا ظاہر کرتا ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی وراثت اب آپ کی امت کو دے دی گئی۔ پھر جب بیت المقدس مسلمانوں کے حصہ میں آیا تو اس کی وہ دینی اور آیاتی حیثیت بھی انہیں کی طرف لوٹ آئے گی جو قدیم انبیاء کے زمانہ میں انہیں حاصل تھی۔ بابل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر جب خدا کی رحمت ہوتی تو وہ فلسطین میں فارغ البال اور ذی اقتدار بنا دئے جاتے ۔ اور جب ان پر خدا کا عتاب ہوتا تو فلسطین ان سے چھن جاتا اور وہ سخت مصیبتوں کی زد میں آجاتے۔ فلسطین بنی اسرائیل کے مرحوم یا مغضوب ہونے کی علامت تھی۔ یہی معاملہ خدا کا اب مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ فلسطین مسلمانوں کے حق میں حکم خداوندی کی علامت ہے۔ اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل ہو اور وہاں وہ امن کی زندگی بسر کر رہے ہوں تو سمجھنا چاہئے کہ خدا ان سے خوش ہے۔ اور اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عتاب خدا وندی کی زد میں آگئے ہیں ( احبار، باب ۲۶، استثنا، باب ۲۸)

نبی آخر الزمان کے ظہور کے بعد بیت المقدس اور کعبہ دونوں کی وراثت آپ کی امت کو دی جاچکی ہے۔ اس اعتبار سے امت مسلمہ کے بارہ میں مرحومیت یا مغصوبیت کا اظہار کعبہ کی سطح پر بھی ہوسکتا تھا۔ مگر کعبہ دین محفوظ کا قبلہ اور اس کا قیامت تک کے لئے مرکز ہے، اس لئے اس کو تخریبی فتنوں سے بچانا بھی ضروری ہے۔ کعبہ محفوظ نہ رہے تو دین کی محفوظیت بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔ اس بنا پر ضروری ہوا کہ امت مسلمہ کے بارے میں آیات رحمت یا آیات غیر رحمت کے ظہور کے لئے بیت المقدس کو بدستور اپنی سابقہ حیثیت پر باقی رکھا جائے ۔

فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سمجھنا خدا کی سنت سے بے خبری کا ثبوت ہے۔ یہ در اصل خدا کا وہ معاملہ ہے جو وہ حاملین کتاب کے ساتھ اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ حامل کتاب ہونے کی ذمہ داری کو ادا نہ کر رہے ہوں ۔ پہلے یہود کتاب الہی کے حامل تھے۔ اس لئے پچھلے زمانہ میں یہود کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہا۔ اب مسلمان کتاب الہی کے حامل ہیں ، اس لئے اب خدا کا وہ معاملہ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہوگا جو پہلے فلسطین کے یہود کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ پھر یہ کام یہود سے کیوں لیا جا رہا ہے، اس کی خاص مصلحت ہے۔ یہود کا فلسطین میں جمع ہونا اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کو ذلت کی سزا دینا بیک وقت دو مقاصد کا حامل ہے۔ ایک طرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو ایک مقام پر جمع کرکے بالآخر انہیں کوئی سخت اجتماعی سزا دی جانے والی ہے۔ دوسری طرف ایک ” مغضوب “ قوم کے ذریعہ مسلمانوں کو سزا دینا اس شدت عتاب کو بتارہا ہے جس کا مورد اس وقت

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page