ظہورِ آیات کا مقام
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۴۶
مسلمان بن رہے ہیں اور اس وقت تک بنتے رہیں گے جب تک وہ دوبارہ اپنے آپ کو کتاب الہی کی بنیاد پر کھڑا نہ کریں۔
آج تمام دنیا کے مسلمان فلسطینیوں کی حمایت پر متحد ہیں۔ شاید عالم اسلام کا دوسرا کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں جس پر ان کے درمیان اتنا زیادہ اتفاق پایا جانا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں نے فلسطین کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ مسلمانوں کے تمام اعضا غورو کا بر اس معاملہ میں یکساں طور پر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں اور مجاہدین فلسطین کے نام اپنے حمایتی الفاظ نشر کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جاتا چاہتے ہیں۔ اس طرح فلسطین کا مسئلہ عملاً، تمام دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی عزت تمام مسلمانوں کی عزت ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی بے عزتی تمام مسلمانوں کی بے عزتی ۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی عمومی حمایت کسی بھی درجہ میں فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ فلسطینی مسئلہ دن بدن سخت سے سخت تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ کسی اور مقام پر پیدا ہوا ہے اور مسلمان اس کا حل کسی اور مقام پر تلاش کر رہے ہیں ۔ یہ مسئلہ امریکہ اور اسرائیل کی سطح پر نہیں ہے بلکہ خدا کی کتاب کی سطح پر ہے۔ اگر یہ امریکہ کا مسئلہ ہوتا تو ہم اس کو اسی طرح حل کر چکے ہوتے جس طرح ویت نام نے اس کو بہت پہلے حل کر لیا۔ خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے اور خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی کو ختم کر کے ہی یہ مسئلہ دوبارہ ختم ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ مزید اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان جو کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے وہی وہ چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کو ان سے مطلوب ہو یا جو کتاب الہی کی اقامت کے ہم معنی ہو۔ کیونکہ موجودہ زمانہ میں اتنی بڑی بڑی اسلامی شخصیتیں پیدا ہوئی ہیں اور اتنے بڑے پیمانہ پر اسلامی کام ہو رہا ہے ہیں کہ اگر یہی وہ چیز ہوتی جو خدا کو مطلوب ہو تو کبھی ممکن نہ تھا کہ مسلمان عتاب خداوندی کی زد میں آئیں کیونکہ یہ سب کام مقدار میں اتنے زیادہ ہیں کہ اگر وہ صحیح اور مطلوب ہوں تو ان پر نصرت خداوندی کا نزول ہونا چاہئے نہ کہ عتاب خداوندی کا۔
یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر آج تمام دنیا کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا اگر انھیں رد کر دے تو پھر ان کے لئے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں۔ غیر مطلوب سرگرمیاں، خواہ وہ دین کے نام پر کی جارہی ہوں، کسی کو خدا کی نظر میں رحمت و نصرت کا مستحق نہیں بناتیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues