Al-Risala · September 1982 · page 9

اعلان کلمہ اللہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۹

کہ لوگوں کو حق کے بارے میں پوری طرح بتا دیا جائے۔ خیر خواہی اور حکمت کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کو اس طرح کھول دیا جائے کہ سننے والوں کے لئے یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہم اس سے بے خبر تھے۔ ہم یہ جانتے ہی نہ تھے کہ زندگی میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اسی کا نام اتمام حجت ہے۔ اظہار اس سے آگے کی چیز ہے۔ اظہار کا مطلب یہ ہے کہ دینی فکر دنیا کا غالب فکر بن جائے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے افکار پست اور مغلوب ہو کر رہ جائیں ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اعلان کلمہ اللہ کہا گیا ہے : اظہار دین یا اعلان کلمہ اللہ سے مراد اصلاً حدود و قوانین کا نفاذ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی اسی قسم کا غلبہ جیسا غلبہ موجودہ زمانہ میں جدید علوم کو قدیم روایتی علوم پر حاصل ہوا ہے۔ مثلاً سرمایہ داری پر سوشلزم کا فکری غلبہ، شہنشاہیت پر جمہوریت کا فکری غلبہ اور قیاسی فلسفہ پر تجرباتی سائنس کا فکری غلبہ۔ جدید سائنسی دنیا میں بعض علوم نے غالب علم کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ اور بعض دوسرے علوم نے ان کے مقابلہ میں اپنی برتری کھودی ہے۔ اسی قسم کا غلبہ دین حق کا بھی دین باطل کے اوپر مطلوب ہے۔ خدا قادر مطلق ہے ۔ اس کے لئے بہت آسان تھا کہ وہ حق کو دوسری باتوں پر فائق و برتر کر دے جس طرح اس نے سورج کی روشنی کو دوسری تمام زمینی روشنیوں پر فائق کر رکھا ہے۔ مگر موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا اپنے مطلوب واقعات کو اسباب کے روپ میں ظاہر کرتا ہے نہ کہ معجزات کے روپ میں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اسباب کے دائرہ میں اس مقصد کے لئے تمام ضروری حالات پیدا کئے جائیں اور اس کے بعد ایک ایسا پیغمبر بھیجا جائے جس کو خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی گئی ہو۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل کر کے نہ صرف حق کا اعلان کرے بلکہ حق کا اظہار بھی کر دے تاکہ خدا کے بندوں پر خدا کی نعمت کا اتمام ہو اور ان پر ان برکتوں کے دروازے کھلیں جو ان کی نادانی سے ان کے اوپر بند پڑے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی ان آیتوں میں کہی گئی ہے:

يريدون ليطفئوا نور الله بافواههم والله وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں متم نورہ ولو کرة الكفرون ٥ هو الذي ارسل اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ وہ منکروں رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو هدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام دينہ ولو كره المشركون ٥ الصفت ٨ - ۹ دین پر غالب کر دے خواہ وہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو ایک نئی قوم برپا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انا دعوة ابراھیم (میں ابراہیم کی دعا ہوں) حضرت ابراہیم

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page