اعلان کلمہ اللہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۰
نے کعبہ کی تعمیر کے وقت یہ دعا کی تھی کہ اے خدا تو میرے لڑکے اسمٰعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ ۱۲۹) تاہم حضرت ابراہیم کی دعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے درمیان تقریباً ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ حضرت زکریا نے اپنی اولاد میں ایک پیغمبر پیدا کئے جانے کی دعا کی تو ایک سال کے اندر ہی آپ کے یہاں حضرت یحییٰ پیدا ہو گئے (آل عمران ۳۹) اور حضرت ابراہیم نے اسی قسم کی دعا فرمائی تو اس کی عملی قبولیت میں ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔
اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ حضرت یحییٰ کو ایک وقتی کردار ادا کرنا تھا۔ آپ اس لئے بھیجے گئے کہ یہود کے دینی بھرم کو کھولیں اور بالآخر ان کے ہاتھوں قتل ہو کر یہ ثابت کریں کہ یہود اب اتنا بگڑ چکے ہیں کہ انھیں معزول کر دیا جائے اور ان کی جگہ دوسری قوم کو کتاب الہیٰ کا حامل بنایا جائے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر اسلام کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب فکر کی حیثیت دے دیں۔ اس کام کو اسباب کے ڈھانچہ میں انجام دینے کے لئے ایک نئی صالح قوم اور موافق حالات درکار تھے۔ یہی وہ قوم اور یہی وہ حالات ہیں جن کو وجود میں لانے کے لئے ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔
اس منصوبہ کے تحت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق کے متمدن علاقہ سے نکلیں اور حجاز کے خشک اور غیر آباد مقام پر اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لا کر بسا دیں (ابراہیم ۳۷) یہ مقام اس وقت وادی غیر ذی زرع ہونے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ تھا۔ یہاں تمدنی آلائشوں سے دور رہ کر خالص فطرت کی آغوش میں ایک ایسی قوم کی تعمیر کی جاسکتی تھی جس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطری صلاحیتیں محفوظ ہوں۔ ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امة مسلمة لك، البقرہ (۱۲۸) قبولیت دعا میں ڈھائی ہزار سالہ تاخیر کا واضح مطلب یہ تھا کہ مخصوص ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ وہ جاندار قوم وجود میں آئے جو خدا کے دین کی سچی حامل بن سکے۔ جو پورے معنوں میں ایک جان دار قوم ہو اور ان تمام مصنوعی کمیوں سے پاک ہو جن کی وجہ سے دور اول میں خدا کے دین کے اظہار کے لئے کار آمد آدمی مل سکے۔ جب منصوبہ کے مطابق مکمل اسٹیج تیار ہو گیا اس وقت بنو ہاشم کے یہاں آمنہ بنت وہب کے پیٹ سے وہ پیغمبر غلبہ پیدا کر دیا گیا جس کی دعا حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئی تھی۔
حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے ہاجرہ اور اسمٰعیل کو موجودہ مکہ کے مقام پر لا کر بسا دیا جہاں اس وقت سوکھی زمین اور خشک پتھروں کے سوا اور کچھ نہ تھا نہ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا اور اسمٰعییل پیاس کی شدت سے ہاتھ پاؤں مارنے لگے تو خشک بیابان میں زمزم کا چشمہ نکل آیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خدا نے اگر چہ تم کو بڑے سخت محاذ پر کھڑا کیا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ تم کو بے سہارا چھوڑ دے۔ تمھارا معاملہ خدا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues