Al-Risala · September 1982 · page 13

خیر امت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳

لفظوں میں اس طرح ادا کیا ہے: وہ اس امت کے سب سے افضل لوگ تھے۔ وہ سب سے زیادہ نیک دل، سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلف والے تھے۔ اللہ نے ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کے قیام کے لیے چن لیا تھا(کانوا افضل ھذہ الامۃ ابرھا قلوبا واعمقھا علما واقلھا تکلفا اختارھم اللہ لصحبۃ نبیہ ولا قامۃ دینہ)

دور شرک میں انسان سے سب سے اہم صفت جو کھوئی گئی تھی' وہ تھی __ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت۔ اب انسان حقیقت کو محسوسات اور مظاہر کی سطح پر دیکھتا تھا، وہ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔ یہی اصل رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے پچھلے زمانے میں نبیوں کا مذاق اُڑایا جاتا رہا۔

وہ خدا کے منکر نہ تھے مگر انھوں نے خدا کو محسوسات کے پیکر میں ڈھال لیا تھا۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا کو سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اس لیے انھوں نے نظر آنے والی چیزوں کو خدائی کا پیکر فرض کر کے ان کو اپنا مرکز توجہ بنا لیا تھا، خواہ یہ مادی بڑائیاں ہوں یا انسانی بُرائیماں ۔ ان کی یہی کمزوری پیغمبر کی پیغمبری پر یقین کرنے میں مانع تھی۔ ہر پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے وہ محض ایک انسان ہوتا ہے۔ ابھی اس کے ساتھ وہ تاریخی بُرائیماں شامل نہیں ہوتیں جو بعد کے دور میں اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اپنی دعا میں فرمایا تھا : اے میرے رب ، اس شہر (مکہ) کو تو امن والا شہر بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں۔ اے میرے رب ، ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے میرے رب ، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسے میدان میں بسایا ہے جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں (ابراہیم ۳۷- ۳۵)

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا غلبہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ عالی شان بت خانے ہر طرف قائم تھے۔ انسان کے لئے بظاہر نا ممکن ہو گیا تھا کہ وہ اس سے ہٹ کر سوچ سکے۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک جنتیل زمین میں ایک نئی نسل پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ ایک محفوظ علاقہ میں ایسے افراد تیار کرنے کا منصوبہ تھا جو ظواہر سے اوپر اٹھ کر حقائق کا پرستار بن سکے۔ چنانچہ اسی انسانی مادہ سے وہ قوم بنی جس کے متعلق قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:

ولكن ٱللَّهَ حبب اليكم الايمان وزينه في قلوبكم مگر اللہ نے ایمان کو تمھارے لئے محبوب بنا دیا اور اس وكره اليكم الكفر والفسوق والعصيان کو تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور تمھارے لئے کفر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page