خیر امت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۲
یہ قوم جو عرب کے صحراؤں اور چٹیل بیابانوں میں تیار ہوتی، اس کی خصوصیات کو ایک لفظ میں المرو رة کہا جا سکتا ہے۔ المر ورة کے لفظی معنی ہیں مردانگی۔ یہ عربوں کے یہاں کسی کے جوہر انسانیت کو بتانے کے لئے سب سے اونچا لفظ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم عربی شاعر کہتا ہے:
اذا المرء اعیتہ المرو رة ناشئا فطلبها كهلا عليه شديد (آدمی اگر اٹھتی جوانی میں مردانگی کا مقام حاصل کرنے سے عاجز رہ جائے تو بڑھاپے میں اس کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے)
پروفیسر فلپ ہٹی نے عرب تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب کے بیابانوں میں صدیوں کے عمل سے جو قوم تیار ہوئی وہ دنیا کی ایک نرالی قوم تھی جو مندرجہ ذیل اخلاقی صفات میں کمال درجہ رکھتی تھی : Courage, endurance in time of trouble (sabr) observance of the rights and obligations of neighbourliness (jiwar)
manliness (muruah) generosity and hospitality, regard for women and fulfilment of solemn promises. (P. 253)
ہمت، مشکل کے وقت برداشت، پڑوسی کے حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی، مردانگی، فیاضی اور مہمان نوازی، عورتوں کی عزت اور وعدہ کر لینے کے بعد اسے پورا کرنا۔
خیر امت
اس طرح ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ ایک ایسی قوم نکالی گئی جو اپنے انسانی اوصاف کے اعتبار سے تمام قوموں میں سب سے بہتر تھی (کنتم خیر امة اخرجت للناس ، آل عمران (۱۱۰) حضرت عبد اللہ بن عباس نے خیر امت سے مہاجرین کا گروہ مراد لیا ہے (هم الذین هاجروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة الى المدينة، تفسیر ابن کثیر) مہاجرین دراصل اس گروہ کی علامت تھے۔ باعتبار حقیقت اس سے وہ پورا عرب گروہ مراد ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔
پیغمبروں کو ہر زمانہ میں ایک ہی سب سے بڑی رکاوٹ پیش آئی ہے۔ ان کی مخاطب قوموں کے پاس جو آبائی دین ہوتا تھا اس کے ساتھ مادی رونقیں اور درودیوار کی عظمتیں شامل ہوئی تھیں۔ دوسری طرف وقت کا پیغمبر دلیل مجرد کی سطح پر کھڑا ہوتا تھا۔ عرب میں جو قوم تیار ہوئی اس کے اندر یہ انوکھی صفت تھی کہ وہ حق کو دلیل مجرد کی سطح پر پا سکے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے حق کے حوالے کر دے جس نے اپنی ظاہری روپ اختیار نہیں کیا ہے۔ کھلے آسمان اور وسیع صحراؤں کے درمیان جو قوم تیار ہوئی وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ حقیقت کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکے، وہ ایک ایسے حق کے لئے اپنا سب کچھ سونپ دے جس سے بظاہر دنیا میں کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ اصحاب رسول کی اس خصوصیت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے تین
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues