خیر امت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۵
اولئک ھم الراشدون (الحجرات 7) اور فسق اور نافرمانی کو قابلِ نفرت بنا دیا۔ یہی لوگ راہِ راست والے ہیں۔
اس آیت کو ہم اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب کہ اس کو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں رکھ کر دیکھیں، جب کہ اصحابِ رسول کے ایمان کا واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے دکھائی دینے والے خداؤں کے ہجوم میں دکھائی نہ دینے والے خدا کو پایا اور اس کو اپنا سب کچھ بنا لیا۔ عظمت کے مناروں کے درمیان انھوں نے عظمتوں سے خالی پیغمبر کو پہچانا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ ایک دین غریب (اجنبی دین) اپنی ساری بے سرد سامانی کے باوجود ان کی نظر میں اتنا محبوب ہو گیا کہ اس کی خاطر کوئی بھی قربانی کرنا ان کے لیے مشکل نہ رہا۔ خلاصہ یہ کہ انھوں نے ایک ایسی سچائی کو دیکھ لیا جو ابھی مجرد روپ میں تھی، جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو ابھی قومی فخر کا نشان نہیں بنا تھا اور جس میں اپنا سب کچھ دے دینا تھا۔ مگر دنیا میں اس کے بدلے کچھ بھی پانا نہ تھا۔
اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال وہ ہے جو ہجرت سے پہلے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے وقت پیش آئی۔ عین اس زمانہ میں جب کہ مکہ میں اسلام کے حالات بے حد تنگ ہو چکے تھے، مدینہ میں کچھ مسلمانوں کی تبلیغ سے اسلام پھیلنے لگا۔ حتیٰ کہ ہر گھر میں داخل ہو گیا۔ اس وقت مدینہ کے کچھ لوگوں نے طے کیا کہ وہ مکہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نصرت کی بیعت کریں اور آپ کو مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کی دعوت دیں۔ حضرت جابر انصاری کہتے ہیں کہ جب مدینہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم اللہ کے رسول کو اس حال میں چھوڑے رکھیں کہ آپ مکہ کے پہاڑوں میں پریشان اور ڈرے سہمے پھرتے رہیں (ثم ائتمرو جمیعا فقلنا حتیٰ متی نترك رسول الله يطوف ويطرد فى جبال مكة ويخاف) رسول اللہ کا بے یار و مددگار ہونا ظاہر بینوں کے لئے اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہی نہیں۔ اگسا اللہ کے رسول ہوتے تو آپ کی یہ حالت کیوں ہوتی۔ مگر اہل مدینہ نے آپ کے معاملہ کو حقیقت کی نظر سے دیکھا۔ انھوں نے یہ راز پا لیا کہ آپ کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے اور آپ کی مدد کر کے وہ خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔
بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر مدینہ کے ستر سے کچھ اوپر نمائندوں نے مکہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ بیعت کیسے نازک حالات میں ہوئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس وفد کے ایک رکن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے مکہ کے لئے اس طرح روانہ ہوئے کہ ہمارا قبیلہ جو حسبِ معمول زیارتِ کعبہ کے لئے جا رہا تھا اس کے ساتھ خاموشی سے حج کے نام پر شریک ہو گئے۔ مکہ کے قریب قبیلہ والوں نے پڑاؤ ڈالا۔ رات کے وقت ہم دوسروں کی طرح ان کے ساتھ سو گئے۔ یہاں تک کہ جب رات کا تہائی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues