Al-Risala · September 1982 · page 16

غير متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶

حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ کی قرار داد کے مطابق اپنے بستروں سے خاموشی کے ساتھ اٹھے، اور مقام موعود کی طرف اس طرح چلے جیسے چڑیا جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ چھپتی ہوئی چلتی ہے (تسلسل القطا مستخفيین، سیرة ابن هشام ، جز رشثانی، صفحه ۴۹)

وہ لمحہ بھی کیسا عجیب تھا جب کہ ایک دنیا پیغمبر کو رد کر چکی تھی ، اس وقت کچھ لوگ اس کو قبول کرنے کے لئے سبقت کر رہے تھے، یہ وہ وقت تھا کہ پیغمبر سے ان کا وطن چھینا جا چکا تھا۔ طائف سے انہیں پتھر مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ تمام قبائل نے آپ کو پناہ میں لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں مدینہ کے لوگوں نے آپ کی صداقت کو پہچانا اور آپ کی پکار پر لبیک کہا۔ اس وقت جب کہ انصار مدینہ بیعت کے لئے بڑھے، ایک شخص نے اٹھ کر کہا، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ اپنے اموال اور اپنی اولاد کو ہلاک کرنے پر بیعت کرنا ہے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ ہم علی نھكة الاموال والاولاد بیعت کر رہے ہیں پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہم نے اس عہد بیعت کو آخر تک پورا کر دیا تو ہمارے لئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا جنت۔ انھوں نے کہا، اپنا ہاتھ لائیے، ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو اس طرح ایک متنازعہ صداقت کے حوالے کرنا، اپنا سب کچھ اس طرح ایک غیر قائم شدہ حق کو سونپ دینا اتنا انوکھا واقعہ ہے کہ وہ اجتماعی سطح پر تاریخ میں صرف ایک ہی بار پیش آیا ہے، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔

غير متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو عرب میں وہ تمام مسائل پوری طرح موجود تھے جن کو موجودہ زمانہ میں قومی مسائل کہا جاتا ہے اور جن مسائل کے نام پر عام طور پر دنیا میں تحریکیں اٹھتی ہیں۔ یہ مسائل ذہین افراد کو متاثر کرتے ہیں اور وہ ان کا نعرہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ تمام مسائل موجود تھے لیکن آپ نے ان سے مطلق تعرض نہیں کیا۔ اگر آپ ان مسائل میں الجھتے تو یہ خدا کے منصوبہ میں اپنے کو شامل کرنا نہ ہوتا۔ وہ سارے مواقع جو ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا کئے گئے تھے برباد ہو کر رہ جاتے۔

۱۔ حبش نے ۶۵۲ میں عرب کے سرحدی علاقہ یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ ابر ہہ اس زمانہ میں شاہ حبش کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ ابرہہ کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (۵۷۰ء) میں اس نے ہاتھیوں کی فوج سے مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبہ کو ڈھا دے اور مکہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کر دے۔ ۔ ۵۰ سالہ قبضہ کے بعد یمن پر حبش کی حکومت ختم ہوئی اور اس پر شاہ فارس کی حکومت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page