خدائی منصوبہ سے مطابقت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸
جائے اور پھر خود انھیں پر جارحیت کا الزام ڈال کر مسلمانوں کے لئے ان کو فتح کرنا آسان بنا دیا جائے۔ اگر مسلمان ابتدائی مرحلہ میں روم و فارس سے لڑ جاتے تو وہ نتیجہ بالکل برعکس صورت میں نکلتا جو بعد کے تصادم کے ذریعہ حیرت انگیز غیر ملکی فتوحات کی صورت میں برآمد ہوا۔
خدائی منصوبہ سے مطابقت
کسان کا معاملہ قدرت کے کاگ (دندانہ) میں اپنا کاگ دینے کا معاملہ ہے۔ خدا نے ہماری زمین پر فصل اگانے کے بہترین امکانات پیدا کئے ہیں۔ مگر ان امکانات کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لئے کسان کو ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین کی سطح پر زرخیز مٹی (Soil) کی تہ رکھی گئی ہے جو معلوم کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر نہیں۔ مگر تمام زرخیزی کے باوجود ا مٹی سے فصل اسی وقت اگتی ہے جب کہ اس میں نمی بھی ہو۔ اس نمی کے نہ ہونے کی وجہ سے خشک علاقوں کے صحرا چٹیل بیابان بن کر رہ گئے ہیں، اس حقیقت کو قدرت لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کر کے نہیں بتاتی بلکہ خاموش اشارہ کی زبان میں بتاتی ہے۔ کسان کو اس سے خاموش اشارہ کی زبان میں جاننا پڑتا ہے۔ چنانچہ کسان یہ کرتا ہے کہ وہ یا تو بارش سے نم ہونے والی زمین میں اپنی فصل ہوتا ہے یا آب پاشی کے ذریعہ پہلے اس میں نمی پہنچاتا ہے، پھر اپنا دانہ اس میں ڈالتا ہے ۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عرب میں اگر چہ بہترین حالات پیدا کر دیے گئے تھے اس کے باوجود ضروری تھا کہ آپ ربانی حکمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے کام کو آگے بڑھائیں۔ اگر آپ کا منصوبہ خدائی منصوبہ کی رعایت کے بغیر چلتا تو آپ کو کبھی وہ کامیابی حاصل نہ ہوتی جو عملاً آپ کو حاصل ہوئی۔ ۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دعوتی عمل میں ساری اہمیت مسئلہ آخرت کو دی جائے۔ مسئلہ دنیا کو کسی بھی حال میں دعوت کا اشونہ بنایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی مسئلہ انسان کا ابدی اور حقیقی مسئلہ ہے۔ دوسرے تمام مسائل وقتی اور اضافی مسئلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آخرت کے بغیر انسان کی کامیابی بھی اتنی ہی بے معنی ہے جتنی کہ اس کی ناکامی بے معنی۔
دوسری بات یہ کہ انسانی زندگی میں ہر قسم کی کامیابی کا تعلق افراد کے کردار سے ہے۔ اور انسان کے اندر حقیقی اور مستقل کردار صرف آخرت پر گہرے یقین ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ عقیدہ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزاد اور خود مختار نہیں ہے، بلکہ وہ ہر آن خدا کی پکڑ میں ہے۔ یہ عقیدہ آدمی سے بے راہ روی کا مزاج چھین لیتا ہے اور اس کو پابند اور ذمہ دار انسان بنا دیتا ہے۔ قرآن وحدیث کو اگر خالی الذہن ہو کر پڑھا جائے تو اس میں آخرت کا مسئلہ سب سے زیادہ ابھرا ہوا مسئلہ نظر آئے گا۔ دوسرے مسئلوں کا ذکر بھی اگر چہ آتا ہے مگر وہ ضمناً ہے نہ اصلاً۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues