Al-Risala · September 1982 · page 17

غير متعلق مسائل سے تعرض نہ کرنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۷

قائم گئی جس کی طرف سے باذان یمن کا گورنر مقرر ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اور اس کی خبر کسریٰ (شاہ فارس) کو پہنچی تو اس نے باذان کو لکھا کہ اس آدمی کے پاس جاؤ جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے کہو کہ وہ اس دعویٰ سے باز آئے۔ اگر وہ باز نہ آئے تو اس کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیجو( (والا فابعث الی براسه سیرہ ابن هشام)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں ظاہر ہوئے تو اس وقت عرب کی سرحدوں پر غیر ملکی قبضہ نے کیسے سنگین مسائل پیدا کر رکھے تھے۔ ان حالات میں ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ہم قوموں کو غیر ملکی قبضہ کے خلاف اکساتے اور اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یہ خدا کے منصوبے سے انحراف کے ہم معنی ہوتا۔ کیونکہ خدا کا منصوبہ تو یہ تھا کہ لوگوں سے غیر متعلق امور پر ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ خاموشی سے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور تاریخ نے دیکھا کہ بالآخر خود باذان نے اسلام قبول کر لیا اور یمن کے عیسائی باشندوں کی اکثریت نے بھی ہو ۔ جو مقصد ایک قومی لیڈر ناکام طور پر سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا وہ آپ نے کامیاب طور پر دعوتی کارروائی کے ذریعہ حاصل کر لیا۔

۲۔ ابو طالب کی وفات کے بعد قبائلی رسم کے مطابق بنو ہاشم کا سردار ابو لہب مقرر ہوا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیا۔ اب آپ کو کسی دوسرے حمایتی قبیلہ کی ضرورت پیش آئی۔ آپ حمایتی کی تلاش میں مختلف قبائل کے پاس گئے۔ عرب کا ایک سرحدی قبیلہ بنوشیبان بن ثعلبہ تھا۔ آپ اس سے ملے تو قبیلہ کے سردار مثنیٰ بن حارثہ نے کہا کہ ہم کسریٰ (شاہ فارس) کی مملکت کے قریب رہتے ہیں۔ وہاں ہم ایک معاہدہ کے تحت مقیم ہیں جو کسریٰ نے ہم سے لیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم کوئی نئی بات نہ کریں گے اور نہ کسی نئی بات کرنے والے کو پناہ دیں گے۔ اور شاید بادشاہوں کو وہ بات ناپسند ہو جس کی طرف آپ بلاتے ہیں (ان لا تحدث حدا ولا نووی محد تا۔ وعلی هذا الامر الذي تدعو اليه تكرهه الملوک، سيرة ابن كثير)

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اطراف عرب میں بیرونی سلطنتوں کے نفوذ نے جو مسائل پیدا کئے تھے وہ صرف سیاسی یا ملکی ہی نہ تھے بلکہ دعوت و تبلیغ کے معاملہ تک بھی پہنچ گئے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہہ کر پہلے مرحلہ ہی میں ان سے لڑائی چھیڑ دیں کہ جب تک یہ خارجی رکاوٹیں دور نہ ہوں کوئی دعوتی کام نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ اول مرحلہ میں ان خارجی طاقتوں سے لڑ جاتے تو یہ خدائی منصوبہ کے خلاف ہوتا۔ کیونکہ خدائی منصوبہ تو یہ تھا کہ روم و فارس کو آپس میں بیس سال تک لڑا کر بالکل کمزور کر دیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page