دور جدید میں اسلامی دعوت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۳
یہاں تک کہ وہ اس انقلاب تک پہنچا جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ گویا خدا نے صدر اول میں شرک کے اوپر توحید کو غلبہ دیا تو اسی کے اندر وہ اسباب بھی پیدا کر دئے جو بعد کے زمانہ میں الحاد پر توحید کو غالب کرنے میں مددگار بن سکیں۔
اسلام کے ذریعہ آنے والے توحیدی انقلاب سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ شرک در اصل مظاہر پرستی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کی ہر چیز جو نمایاں نظر آئی اسی کو انسان نے پوجنا شروع کر دیا، خواہ وہ آسمان کا سورج ہو یا زمین کا بادشاہ۔ اس کی وجہ سے دور شرک میں سائنسی تحقیق کا کام ممکن نہ ہو سکا۔ آرنلڈ ٹوائن بی کے الفاظ میں، فطرت کے مظاہر اس وقت پرستش کا موضوع (Object of Worship) بنے ہوئے تھے، پھر وہ تحقیق کا موضوع (Object of Investigation) کیسے بنتے۔ اسلام نے شرک کو مغلوب کرکے توحید کو غالب کیا تو ایک خدا کے سوا ہر چیز مخلوق نظر آنے لگی، اس انقلاب نے یہ ممکن بنا دیا کہ چیزوں پر تحقیق کا عمل جاری کیا جا سکے۔ یہ عمل ابتدائی صورت میں دور اول ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ ایک بار چاند گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ وہ کسی بڑے آدمی کی پیدائش یا موت کی بنا پر نہیں ہوتے۔ اس طرح آپ نے مادی بڑائی کی بھی نفی کردی اور انسانی بڑائی کی بھی۔ یہ فکری لہر عقیدہ سے الگ ہو کر یورپ پہنچی اور بالآخر جدید انقلاب کا سبب بنی۔
۱۔ اس انقلاب کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ توہماتی دور کا خاتمہ ہو گیا۔ توہم پرستی کیا ہے۔ توہم پرستی نام ہے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے مفروضات وقیاسات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا۔ مثلاً یہ فرض کر لینا کہ جب کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو سورج یا چاند گہنا جاتے ہیں)۔ یہ ذہن اسلام کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسا آدمی حقائق واقعی کی بنیاد پر اسلام اور غیر اسلام کا جائزہ نہیں لیتا بلکہ پیشگی مفروضات کی بنیاد پر بلا دلیل ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط مان لیتا ہے۔ مثلاً اسلام تاریخی طور پر ایک مستند دین ہے اور دیگر تمام مذاہب تاریخی استناد سے محروم ہیں۔ مگر توہمات کے دور میں انسان اس کو اہمیت نہیں دے پاتا تھا۔ جدید دور نے اس کو پوری اہمیت کے ساتھ لیا۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں تنقید عالیہ (Higher Criticism) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آ گیا ہے۔ اس فن کے تحت یہ حقیقت پوری طرح مسلم ہو گئی ہے کہ تاریخی طور پر معتبر دین صرف اسلام ہے۔ دوسرے ادیان کو تاریخی اعتبار یت کا درجہ حاصل نہیں۔
۲۔ سائنسی ذہن نے کائنات کو تجربہ اور مشاہدہ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی۔ اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues