دور جدید میں اسلامی دعوت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴
نتیجہ میں کائنات میں چھپے ہوئے ایسے فطری حقائق انسان کے علم میں آئے جو اسلام کی تعلیمات کی تصدیق اعلیٰ سطح پر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انسان کی تحقیق نے بتایا کہ کائنات میں ہر جگہ ایک ہی قانونِ فطرت کارفرما ہے۔ جو قانون زمین کے احوال پر حکمراں ہے وہی قانون کائنات کے دور دراز مقامات پر بھی حکمراں ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک ہے۔ دو خدا یا بہت سے خداؤں کی اس کائنات میں گنجائش نہیں۔
۳۔ دین توحید کو قدیم زمانہ میں اختیار کرنے کے لئے، ایک علمی رکاوٹ، قدیم فلسفہ بھی تھا۔ قدیم زمانہ میں فلسفہ کو غالب علم کا مقام حاصل تھا۔ تعلیم یافتہ طبقہ کے سوچنے کی ذہنی زمین اس زمانہ میں فلسفہ ہوتا تھا۔ اس کے نتیجہ میں دین توحید کی راہ میں ایک بہت بڑی مصنوعی رکاوٹ حائل ہوگئی تھی۔ قدیم فلسفہ کا آخری نشانہ ہمیشہ سے آخری سچائی کی تلاش رہا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال کی شان دار تاریخ کے باوجود فلسفہ اپنے نشانہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسفہ انسان کی محدودیتوں (Limitations) کا ادراک نہ کر سکا۔ وہ آخری سچائی تک پہنچنے کے لئے ساری کوششیں صرف کرتا رہا۔ جب کہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے بطور خود آخری سچائی تک پہنچ ہی نہ سکتا تھا۔
اس فلسفیانہ طرزِ فکر کی وجہ سے ہزاروں برس تک انسان یہ چاہتا رہا کہ دین توحید کی بنیاد جن اساسی عقائد پر قائم ہے اس کو انسان کے لئے مکمل طور پر معلوم اور مشاہد بنا دیا جائے۔ مگر یہ تمام غیبی حقیقتیں تھیں اور انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ان غیبی حقیقتوں کا کامل ادراک نہیں کر سکتا۔ جدید سائنس کا، دینی نقطہ نظر سے، سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو ڈھا دیا۔ اس نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی صلاحیتیں محدود ہیں۔ وہ اپنی محدودیت کی وجہ سے حقیقت کا کلی ادراک نہیں کر سکتا۔ قدیم فلسفہ کی پیدا کردہ ذہنی زمین اب ساری دنیا میں دفاعی حیثیت کے مقام پر جا چکی ہے اور اب سائنس کی دریافت کردہ ذہنی زمین کو علمی دنیا میں غالب مقام حاصل ہے۔ ذہن کی اس تبدیلی نے دین توحید کے لئے راستہ صاف کر دیا ہے۔ اب اس نقطہ نظر کو، کم از کم بالواسطہ طور پر، مکمل علمی تائید حاصل ہے کہ انسان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ حقیقت اعلیٰ کو پانے کے لئے وہ پیغمبر کی اطلاع کا اعتبار کرے۔ اب یہ مطالبہ سراسر غیر علمی مطالبہ بن چکا ہے کہ خدا اور وحی اور آخرت کو ہماری آنکھوں سے ہمیں دکھاؤ، اس کے بعد ہی ہم اس پر ایمان لائیں گے۔ معلوم تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خود علم انسانی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کا علم محدود ہے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues