پیغمبر کو آغاز تاریخ میں پہچاننا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷
جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اور تقاضوں کو وہ بتائے بغیر جان لیتا ہے۔ اس کی بات کو پانے کے لئے کوئی نفسیاتی گرہ اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اس کے راستے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے وہ کسی چیز کو عذر نہیں بناتا۔
جب آدمی کسی معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھ لے تو اس کے بعد اس کو نہ زیادہ بتانے کی ضرورت ہوتی اور نہ زیادہ سمجھانے کی۔ اس کا قلبی تعلق اس کے لئے ہر دوسری چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ وہ کسی معاوضہ کی امید کے بغیر یک طرفہ طور پر اپنا سب کچھ اس کے لئے لٹا دیتا ہے۔ اس کی خاطر کھونا بھی اس کو پانا معلوم ہوتا ہے۔ اس کی خاطر بے قیمت ہو جانا اس کی نظر میں سب سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر دوسری مصلحت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے لئے وہ ہر تکلیف کو اس طرح سہہ لیتا ہے جیسے کہ وہ کوئی تکلیف ہی نہ ہو۔
اصحاب رسول کوئی غیر معمولی انسان نہ تھے۔ وہ کوئی ماورا ئے بشر مخلوق نہیں تھے۔ ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ محبت کے درجہ کا تعلق جو عام انسانوں کو صرف اپنے آپ سے ہوتا ہے وہی تعلق ان کو دین و ایمان سے ہو گیا تھا۔ عام آدمی اپنے مستقبل کی تعمیر کو جو اہمیت دیتا ہے وہی اہمیت وہ اسلام کے مستقبل کی تعمیر کو دینے لگے تھے۔ وہ دین کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے کو اتنا ہی ضروری سمجھنے لگے تھے جتنا کوئی شخص اپنی ذاتی دلچسپی کے معاملہ میں اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو استعمال کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ ان کی یہی خصوصیت تھی کہ وہ تاریخ کے وہ گروہ بنے جس نے اسلام کو عظیم ترین کامیابی کے مقام تک پہنچایا۔
پیغمبر کو آغاز تاریخ میں پہچاننا
صحابہ کی یہ انوکھی صفت تھی کہ انھوں نے اپنے ایک معاصر رسول کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا۔ یہ کام اتنا مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں جماعت کی سطح پر صرف ایک بار پیش آیا ہے۔ قدیم تاریخ کے ہر دور میں یہ قصہ پیش آیا کہ رسولوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کیا اور ان کا مذاق اڑایا۔ بائبل میں ہے کہ ”تم نے میرے نبیوں کو ناچیز جانا“ یہ نبیوں کو ناچیز جاننے والے کون لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو وحی ورسالت کو مانتے تھے۔ نبیوں کے نام پر ان کے یہاں ادارے قائم تھے اور بڑے بڑے جشن ہوتے تھے۔ مگر یہ سب کچھ قدیم نبیوں کے نام پر ہوتا تھا ۔ جہاں تک وقت کے نبی کا سوال تھا، اس کے لئے ان کے پاس استہزار و تمسخر کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہود نے حضرت مسیح کا انکار کیا، حالانکہ وہ موسیٰ کو مانتے تھے۔ نصاریٰ نے حضرت محمد کا انکار کیا، حالانکہ وہ حضرت مسیح کی پرستش کی حد تک عزت کرتے تھے۔ اسی طرح قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارے اور آپ کو گھر سے نکالا، حالانکہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہونے پر فخر کرتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues