Al-Risala · September 1982 · page 36

اصحابِ رسول

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶

اصحابِ رسول

قرآن میں لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا ہے :

فان آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو وان تولوا فانما هم في شقاق (البقرہ ۱۳۷) تو بے شک وہ ہدایت یاب ہوئے اور اگر وہ منہ موڑیں تو وہ اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اصحابِ رسول نہ صرف اول الایمان ہیں بلکہ وہی ہمیشہ کے لئے حق کا نمونہ بھی ہیں۔ خدا کے یہاں جو ایمان معتبر ہے وہ وہی ایمان ہے جو صحابہ کرام جیسا ایمان ہو۔ دین و ایمان کی کوئی ایسی قسم جو صحابہ کرام کے دین و ایمان سے مختلف ہو، اللہ تعالیٰ کو مطلوب نہیں۔ یہاں صحابہ کرام کی چند خصوصیات مختصراً درج کی جاتی ہیں دین ان کے لئے محبوب ترین گیا تھا اصحابِ رسول کی خصوصیت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان ان کے لئے ایک محبوب شئے بن گیا تھا (الحجرات ۷)، محبت کسی چیز سے تعلق کا آخری درجہ ہے۔ اور جب کسی چیز سے محبت کے درجہ کا تعلق پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کے لئے ہر چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن اس چیز کے بارے میں اس طرح متحرک ہو جاتا ہے کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے اس سے متعلق ہر بات کو جان لیتا ہے ۔ اس کو خواہ معروف معنوں میں کوئی نقشہ کار نہ دیا گیا ہو مگر اس کا ذہن خود بتا دیتا ہے کہ اس کو اپنی محبوب شئے کے لئے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے (التوبہ ۴۶)

محبت کی سطح کے تعلق کا مطلب ہے دل چسپی کی سطح کا تعلق ۔ یعنی یہ کہ آدمی اسلام کے نفع نقصان کو خود اپنا نفع نقصان سمجھنے لگے ۔ اصحابِ رسول کو اسلام سے اسی قسم کا تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ اسلام کے فائدے سے اسی طرح خوش ہوتے تھے جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹے کی کامیابی سے خوش ہوتا ہے ۔ اسلام کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اسی طرح بے چین ہو جاتے تھے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کے متعلق ناخوش گوار خبر سن کر تڑپ اٹھتا ہے اور اس وقت تک اسے چین نہیں آتا جب تک وہ اس کی تلافی نہ کرلے ۔

کسی چیز سے محبت کے درجے کا تعلق پیدا ہو جائے تو آدمی کا ذہن اس کے بارے میں پوری طرح

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page