غیر قائم شدہ صداقت کے لئے مال لٹانا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹
آج جب ہم لفظ ” قرآن “ بولتے ہیں تو یہ ہمارے لئے ایک ایسی عظیم کتاب کا نام ہوتا ہے جس نے چودہ صدیوں میں اپنی عظمت کو اس طرح مسلم کیا ہے کہ آج کروڑوں انسان اس کو خدا کی کتاب ماننے پر مجبور ہیں۔ آج اپنے آپ کو قرآن سے منسوب کرنا کسی آدمی کے لئے فخر و اعزاز کی بات بن چکی ہے۔ مگر زمانہ نزول میں لوگوں کے نزدیک اس کی یہ حیثیت نہ تھی۔ عرب میں بہت سے لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ محمد نے پرانے زمانے کے قصے کہانیوں کو جوڑ کر ایک کتاب بنالی ہے۔ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ایک کتاب بنالیں لو نشاء لقلنا مثل هذا ان هذا الا اساطیر الاولین ، الانفال (۳۱) کوئی قرآن میں تکرار کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کوئی خاص کتاب نہیں۔ محمد کے پاس بس چند باتیں ہیں، انہیں کو وہ صبح شام دہراتے رہتے ہیں رو قالوا اساطیر الاولین اکتتيبها فهي تملی علیہ بكرة و اصيلا، الفرقان (۵)
ایسی حالت میں قرآن کو پہچاننا گویا مستقبل میں ظاہر ہونے والے واقعہ کو حال میں دیکھنا تھا۔ یہ ایک چھپی ہوئی حقیقت کو اس کے ثابت شدہ بننے سے پہلے پالینا تھا۔ پھر ایسے وقت میں قرآن کو کتاب دعوت بنا لینا اور بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اپنی عظمت کو کھو کر دوسرے کی عظمت میں گم ہونا پڑتا ہے۔ یہ اپنے مقابلہ میں دوسری شخصیت کا اعتراف کرنا ہے، اور وہ بھی ایسی شخصیت کا جس کی حیثیت ابھی مسلم نہ ہوئی ہو۔ عرب کے مشہور شاعر لبید نے اسلام قبول کیا اور شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑ دی۔ لبید نے کہا : ابعد القرآن کیا قرآن کے بعد بھی آج کوئی آدمی شاعری چھوڑ کر یہ جملہ کہے تو اس کو زبردست عظمت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ مگر لبید کے قول میں اور آج کے شاعر کے قول میں کوئی نسبت نہیں کیونکہ آج کا شاعر تاریخ کے اختتام پر یہ جملہ کہہ رہا ہے جب کہ لبید نے تاریخ کے آغاز پر یہ جملہ کہا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے۔ لا يستوى منكم من انفق من قبل الفتح و قاتل تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں وہ ان اولئك اعظم درجنة من الذين انفقوا من لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور بعد و قاتلوا الحدید ۱۰ جہاد کیا۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔
غیر قائم شدہ صداقت کے لئے مال لٹانا
ابن ابی حاتم نے ایک صحابی کا واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے :
عن عبد الله بن مسعود قال لما نزلت هذہ الآية عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (من ذا الذي يقرض الله قرضاً حسناً فيضاعفه قرآن میں یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues