Al-Risala · September 1982 · page 36

غیر قائم شدہ صداقت کے لئے مال لٹانا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶

تو حضرت ابو دحداح انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے خدا کے رسول، کیا اللہ واقعی ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اے ابو دحداح۔ انھوں نے کہا اے خدا کے رسول، اپنا ہاتھ لائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا ۔ ابو دحداح نے کہا کہ میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ ان کا ایک کھجوروں کا باغ تھا جس میں چھ سو درخت تھے۔ اس وقت ان کی بیوی ام دحداح اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں تھیں۔ وہ باغ میں واپس آئے اور آواز دی کہ اے ام دحداح۔ انھوں نے کہا ہاں۔ ابو دحداح نے کہا باغ سے نکلو، کیونکہ اس کو میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ بیوی نے کہا: اے ابو دحداح آپ کی تجارت کامیاب رہی۔ اور اس کے بعد اپنے سامان اور اپنے بچوں کو لے کر باغ سے نکل آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو دحداح کے لئے جنت میں کتنے ہی شاداب اور پھل دار درخت ہیں۔ یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جس دین پر ایمان لائے تھے اس دین کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لئے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ یہاں دوبارہ ذہن میں رکھ لیجئے کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے کا ہے۔ آج کوئی شخص دین کے نام پر اس قسم کا انفاق کرے تو عین ممکن ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے درمیان مقبولیت کی صورت میں اس کو بہت جلد اپنے انفاق سے زیادہ بڑی چیز مل جائے ۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت دین کی راہ میں اپنا مال لٹانا ماحول میں دیوانگی کا خطاب پانے کا ذریعہ تھا، وہ اونچے میناروں پر نمایاں ہونے کے بجائے بنیاد کی زمین میں دفن ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت ایسا اقدام ایک ایسی تحریک کے خانہ میں لکھا جانے والا تھا جس کی صداقت ابھی مشتبہ تھی جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ یہ ایک غیر مسلمہ مد میں اپنا اثاثہ پیش کرنا تھا، جب کہ آج کا آدمی ایک مسلمہ مد میں اپنا اثاثہ پیش کرتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page