Al-Risala · September 1982 · page 32

اپنا تاج دوسرے کے سر پر رکھنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲

(اے لوگو مجھے مشورہ دو آپ بظاہر سب سے مشورہ کرتے۔ مگر عملًا یہ ہوتا کہ کچھ دیر خاموشی رہتی اور اس کے بعد حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر مختصر اپنی رائے ظاہر کر کے بیٹھ جاتے ۔ اس کے بعد حضرت عمر کھڑے ہوتے اور مختصر کچھ بول کر بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد معمولی طور پر کچھ لوگ بولتے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔ آپ کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر کی خلافت کا زمانہ آیا تو آپ بھی اسی طرح لوگوں کو جمع کر کے مشورہ طلب کرتے ، اب یہ ہوتا کہ کچھ دیر خاموشی کے بعد حضرت عمر کھڑے ہوتے اور مختصر طور پر اپنی رائے ظاہر کر کے بیٹھ جاتے، اس کے بعد چند لوگ بولتے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔ حضرت عمر کے بعد غیر اصحاب کی تعداد بڑھ گئی اور مذکورہ صورت باقی نہ رہی۔

یہ بظاہر ایک ساوہ سی بات ہے مگر یہ اتنی اہم بات ہے کہ تاریخ میں کوئی دوسرا معاشرہ نہیں پایا جاتا جس نے اس کا ثبوت دیا ہو۔ یہ طرز عمل صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اتنا خود شناس ہو جائے کہ وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کو جاننے لگے ۔ وہ دوسرے کے "ہے کے مقابلے میں اپنے نہیں ،، سے واقف ہو جائے۔ وہ اپنے کو اس حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنے لگے جس نظر سے دوسرا شخص اسے دیکھ رہا ہے۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجئے کہ یہ واقعہ جس ابو بکر و عمر کے ساتھ پیش آیا وہ ابو بکر و عمر دہ نہ تھے جن کو آج ہم جانتے ہیں ، آج ہم تکمیل تاریخ والے ابو بکر و عمر کو جانتے ہیں۔ مگر وہ آغاز تاریخ والے ابو بکر و عمر کو جانتے تھے۔ اس وقت وہ اپنے معاصرین کے لئے صرف ان میں سے ایک تھے۔ جب کہ آج وہ ہمارے لئے گزری ہوئی تاریخ کے ستون ہیں جن کو ہم اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی ثابت شدہ واقعہ کو دیکھتا ہے۔ ”ابو بکر و عمر، کو تاریخ کے بعد جاننا انتہائی آسان ہے۔ لیکن " ابوبکر و عمر، کو تاریخ بننے بننے سے پہلے جاننا اتنا ہی مشکل ہے۔ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جو اس مشکل ترین معیار پر پورے اترے ۔ ذمہ داری کو اپنے اوپر لے لینا غزوہ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً ایک دستہ حضرت عمروبن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمروبن العاص نے وہاں پہنچ کر دشمن کی تیاریوں کا حال معلوم کیا تو اپنا دستہ انہیں اس کے لئے ناکافی معلوم ہوا۔ انھوں نے ایک مقام پر ٹھہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ موجودہ فوج ناکافی ہے ، مزید کمک روانہ کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین میں سے دو سو آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی سرکردگی میں اس کو روانہ فرمایا۔

حضرت ابو عبیدہ جب اپنے دستہ کو لے کر منزل پر پہنچے اور دونوں دستے ساتھ ہو گئے تو یہ سوال پیدا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page