Al-Risala · September 1982 · page 31

اپنا تاج دوسرے کے سر پر رکھنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۱

اپنا تاج دوسرے کے سر پر رکھنا

مدینہ میں عبد اللہ بن ابی بہت عاقل اور صاحبِ شخصیت آدمی تھا، وہ مدینہ کا سب سے زیادہ ممتاز سردار سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ مدینہ کے باشندوں کو اپنا اختلاف وانتشار ختم کرنے کا احساس ہوا تو انہوں نے عبد اللہ بن ابی کو منتخب کیا کہ اس کو اپنا با دشاہ بنائیں اور اس کی علامت کے طور پر اس کو ایک تاج پہنائیں (فا ما عبد الله بن ابي فكان قومه قد نظموا له الخرز ليتوجوه ثم يملکوه عليهم، سيرة ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۱۶)

عبد اللہ بن ابی کی تاج پوشی کا انتظام مکمل ہو چکا تھا کہ عین اس وقت اسلام مدینہ میں پہنچ گیا۔ مدینہ کے باشندوں کی فطرت نے اس کی صداقت کی گواہی دی اور اسلام گھر گھر میں پھیلنے لگا۔ اس کے بعد مدینہ کے باشندوں کا ایک نمائندہ وفد مکہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کی زبان سے آپ کا پیغام سنا۔ انھیں نظر آیا کہ مدینہ کی اجتماعی تنظیم کے لئے انھیں جو شخصیت درکار ہے وہ زیادہ بہتر طور پر محمد بن عبد اللہ کی صورت میں موجود ہے۔ انھوں نے مدینہ کے لوگوں کی طرف سے آپ کو پیش کش کی کہ آپ مدینہ آئیں اور وہاں ہمارے سردار بن کر رہیں۔ اسلامی تاریخ کا یہی وہ واقعہ ہے جو بیعتِ عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔

یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ اپنا تاج دوسرے آدمی کے سر پر رکھ دینے کے ہم معنی تھا۔ قدیم قبائلی دور میں ایسا کوئی واقعہ بے حد نادر واقعہ تھا۔ اپنی قوم یا قبیلہ سے باہر کسی آدمی کو اپنا غیر مشروط سردار بنا لینا ہمیشہ انسان کے لئے مشکل ترین کام رہا ہے اور قدیم زمانہ میں تو یہ اور بھی زیادہ مشکل تھا۔ مزید یہ کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت ”محمد“ اس پر عظمت ہستی کا نام نہ تھا جس سے ہم آج واقف ہیں۔ اس وقت محمد ایک ایسے انسان تھے جن کو ان کے اہل وطن نے نکال دیا تھا۔ جن کے ساتھ قومی عصبیت اور تاریخی عظمت شامل نہ ہوئی تھی۔ جو نہ صرف متنازعہ شخصیت تھے بلکہ ایک لٹے ہوئے بے گھر انسان تھے۔ جن کو اپنا سب کچھ دے دینا تھا اور ان سے پانا کچھ بھی نہ تھا ۔ بیسویں صدی میں کسی برنارڈ شا کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام کے لئے یورپ کی سرداری کی پیش کش کرے۔ مگر چھٹی صدی عیسوی میں کسی کے لئے اس کا تصور بھی نا ممکن تھا کہ وہ آپ کو پیغمبر مان کر آپ کو اپنا اجتماعی امام بنا لے۔ اپنی محدودیت کو جاننا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرتے۔ آپ اپنے اصحاب کو جمع کرتے اور معاملہ کو بیان کرکے فرماتے کہ اشیروا علی ایہا الناس

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page