قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴
فی سبیل میں دکن، قاتل فی سبیل رب عس) وہ پہلے سردار لشکر کی حیثیت سے لڑتے تھے اور اب ایک ماتحت فوجی کی حیثیت سے لڑنے لگے۔
اس قسم کا کردار اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اتنا اونچا ہو جائے کہ وہ شکایتوں اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر سوچے اس کا رویہ رد عمل کے طور پر نہ بنے بلکہ مثبت فکر کے تحت بنے۔ وہ اللہ میں جینے والا ہو نہ کہ انسانی باتوں میں جینے والا۔
قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا
شعبان ۳ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ قریش کے تمام سرداروں کی رہنمائی میں ایک ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف حملہ کرنے کے لئے بڑھ رہا ہے، اس میں چھ سو زرہ پوش تھے اور اسی کے ساتھ ایک سو سواروں کا خصوصی دستہ بھی شامل تھا۔ یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔ آپ نے مدینہ کے انصار اور مہاجرین کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے، حسب معمول اولاً مہاجرین کے ممتاز افراد اٹھے اور انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کا رب جس بات کا حکم دے رہا ہے اس کی طرف بڑھئے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم یہود کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑئیے؛ ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ آپ اور آپ کا خدا چل کر لڑیں، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے ہم آپ کا ساتھ چھوڑنے والے نہیں۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی اس قسم کی تقریروں کے با وجود بار بار یہ فرما رہے تھے کہ لوگو مجھے مشورہ دو (اشیروا علی ایہا الناس) چنانچہ سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا رخ ہماری طرف ہے۔ آپ نے کہا، ہاں، اس پر سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا: ہم آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی، اور اس بات کی گواہی دی کہ جو کچھ آپ لائے ہیں، وہ حق ہے، اور اس پر آپ سے سمع و طاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں، پس اے خدا کے رسول، آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو کر گزرئے، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر آپ ہمیں لے کر سمندر کے سامنے جا پہنچیں اور اس میں گھس جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں گھس جائیں گے۔ ہم میں سے ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو ہرگز یہ ناگوار نہیں ہے کہ آپ ہمیں لے کر کل کے دن دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ مقابلہ کے وقت سچے اترنے والے ہیں۔ شاید اللہ تعالی آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہم کو لے کر چلیں۔ (سیرت ابن ہشام) انصار کے قائد کی اس تقریر کے بعد اقدام کا فیصلہ کر لیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues