قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵
بدر کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انصار کی طرف رخ کرنا بے سبب نہ تھا۔ اس کا ایک خاص پس منظر تھا۔ ابن ہشام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وذلك انهم حين بايعوه بالعقبة قالوا: يارسول الله، انا برآء من ذما مك حتى تصل الى ديارنا، فاذا وصلت إلينا فأنت في ذمتنا نمنعك مما نمنع منه أبناءنا ونساءنا، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخوف الا تكون الأنصار ترى عليها نصره الا ممن دهمه بالمدينة من عدوه، وأن ليس عليهم ان يسير بهم الى عدو من بلادهم، (سيرة ابن هشام ، جزء ثاني، صفحه ۲۵۳) اور ایسا اس لئے ہوا کہ انصار نے جب عقبہ میں بیعت کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ اے خدا کے رسول ، ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں یہاں تک کہ آپ ہمارے دیس میں پہنچ جائیں۔ جب آپ ہمارے پاس آجائیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میں ہوں گے اور ہم آپ کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے لڑکوں اور عورتوں کا دفاع کرتے ہیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ انصار کہیں یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر آپ کی مدد کرنا اس وقت ہے جب کہ آپ کا دشمن مدینہ پہنچ کر حملہ کرے ۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنی بستی سے دور جا کر مقابلہ کریں ۔ انصار کی بیعت قدیم عربی اصطلاح کے مطابق بیعت تسار (دفاعی بیعت) تھی۔ اس کے مطابق مدینہ سے ۸۰ میل دور بدر کے مقام پر جاکر لڑنا ان کے لئے ضروری نہ تھا مگر انصار نے اس کو اپنے لئے عذر نہیں بنایا۔ وہ قانونی حد کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور بدر کے میدان میں جاکر قربانی پیش کی۔ اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہتا اخر ج الطبراني عن المسور بن مخرمة قال : خرج رسول اللہ صلی الله عليه وسلم علی اصحابه فقال إن الله بعثنى رحمة للناس كافة فأدعو عفى رحمكم الله ، ولا تختلفوا كما اختلف الحواريون على عيسى بن مريم فانه دعاهم الى مثل ما ادعوكم اليه فاما من بعد مكانه فكرهه فشكا عيسى بن مريم ذلك الى الله عزوجل ۔ ۔ ۔ ۔ فقال اصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم نحن یا رسول الله نؤدى اليك فابعثنا حيث شئت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے تقریر کی اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ خدا تم پر رحم کرے۔ اور تم لوگ اختلاف نہ کرنا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ انھوں نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کے لئے پکارا جس کی طرف میں تم کو پکار رہا ہوں ۔ پس جس کا مقام دور تھا اس کو وہاں جانا ناگوار ہوا تو عیسیٰ بن مریم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی۔ رسول
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues