Al-Risala · September 1982 · page 259

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵۹

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵۹

مسلمان مقتولین ۲۵۹ غیرمسلم مقتولین ۷۵۹ = ۱۰/۰ صدر اول کا یہ انقلاب تاریخ کا عظیم ترین انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔ اتنے بڑے انقلاب میں مقتولین کی یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اس کو غیر خونی انقلاب (Bloodless Revolution) کہا جا سکتا ہے۔

ہمارے لکھنے اور بولنے والے اکثر پر جوش انداز میں اس انقلاب کا مقابلہ موجودہ زما کے غیر اسلامی انقلابات سے کرتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلامی انقلاب صرف ایک ہزار آدمیوں کی جان لے کر کامیاب ہو گیا۔ جبکہ فرانس میں جمہوری انقلاب لانے کے لئے اور روس میں اشتراکی انقلاب لانے کے لئے اتنے زیادہ آدمیوں کو قربان ہونا پڑا جن کی تعداد لاکھوں میں شمار ہوتی ہے۔

یہ تقابل ہم کو بہت پسند ہے کیونکہ اس میں ہماری پر فخر نفسیات کو تسکین ملتی ہے۔ مگر یہاں تقابل کی ایک اور صورت ہے جس پر مسلمانوں نے کبھی غور نہیں کیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دوسرا تقابل نصیحت کا تقابل ہے اور نصیحت آدمی کے لئے ہمیشہ بہت کڑوی ہوتی ہے۔

یہ دوسرا تقابل یہ ہے کہ آپ صدر اول کی اسلامی دعوت میں مرنے والے کا مقابلہ موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں میں مرنے والوں سے کریں۔ بالفاظ دیگر، صدر اول کے انقلاب سے خود اپنی انقلابی کوششوں کا موازنہ نہ کریں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں دینی انقلاب اور اسلامی جہاد کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائی ہیں مسلمان جس طرح زمانہ رسالت کے دینی انقلاب کا تقابل غیر مسلموں کے لادینی انقلابات سے کرتے ہیں۔ اسی طرح انہیں چاہئے کہ وہ زمانہ رسالت کے انقلاب کو سامنے رکھ کر خود اپنی اٹھائی ہوئی تحریکوں کو تولیں اور ان کے نتائج کا جائزہ لیں۔

اگر مسلمان یہ تقابل کریں تو وہ حیرت انگیز طور پر پائیں گے کہ انہوں نے پیمبری تحریک کے مقابلہ میں دوسری اقوام کی لادینی تحریکوں کو جس مقام پر کھڑا کر رکھا ہے ، عین اسی مقام پر خود ان کی موجودہ زمانہ کی تحریکیں بھی کھڑی ہوئی ہیں ۔ الجزائر کے جہاد آزادی میں ۲۵ لاکھ مسلمان مرے، ہندوستان کے جہاد آزادی میں ۵ لاکھ علماء اور مسلمان شہید ہوئے ، اسلامی پاکستان کو وجود میں لانے کے درمیان ایک کروڑ انسان کام آگئے۔ اسی طرح شام ، عراق، ایران، مصر، فلسطین اور دوسرے علاقوں میں جو لوگ اسلام کے نام پر جانیں دے رہے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ ان تمام قربانیوں کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ صدر اول کی اسلامی تحریک میں دس سو آدمی کام آئے ، اور اس کے بعد ایسا دور رس انقلاب آیا جس کے اثرات ساری دنیا نے محسوس کر لئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page