Al-Risala · September 1982 · page 2

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲

احیار اسلام تمہید اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کا دین سربلند ہو۔ اس کو دنیا میں غالب فکر کا مقام حاصل ہو۔ مگر دین کے فکری غلبہ کے لئے عالمی حالات کی موافقت ضروری ہے۔ خدا نے ہزاروں سال کے عمل سے پیغمبر آخر الزماں کے لئے موافق حالات پیدا کئے۔ آپ نے ان حالات کو جانا اور ان کو حکیمانہ طور پر استعمال کر کے اسلام کو دنیا میں غالب فکر کا مقام عطا کیا۔

اب دوبارہ پچھلے ہزار سال کے عمل کے نتیجہ میں خدا نے وہ تمام موافق حالات جمع کر دئے ہیں جن کو استعمال کر کے از سر نو اسلام کو دنیا کا غالب فکر بنایا جاسکے۔ اسلام کو دوبارہ وہی برتری اور سر بلندی حاصل ہو جو ماضی میں اسے حاصل تھی۔

مگر ان امکانات کو واقعہ بنانے کے لئے ایک ایسی سنجیدہ جدو جہد درکار ہے جو وقت کے گہرے شعور پر ابھری ہو۔ جو رد عمل کی نفسیات سے پاک ہو کر مثبت عمل کرنا جانتی ہو۔ جو ہر دوسرے احساس کو قربان کر کے صرف دین کی سربلندی کے لئے کوشش کرنے والی ہو۔ جو ربانی حکمت کی رہنمائی میں اٹھی ہو نہ کہ انسانی کج فہمیوں کی بنیاد پر۔ جس کا محرک خدا کی بڑائی قائم کرنا ہو نہ کہ قومی فخر اور مادی عظمت کا جھنڈا لہرانا۔ ایسے ہی لوگوں نے پہلے بھی خدا کے دین کو سر بلند کیا تھا اور ایسے ہی لوگ آج بھی خدا کے دین کو سر بلند کریں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ سطحی نعروں پر بھیڑ جمع کرنے کو کام سمجھیں، جو ہر پیش آمدہ مسئلہ پر ڈرڈ نا شروع کر دیں، وہ صرف خدا کے پیدا کئے ہوئے امکانات کو برباد کریں گے۔ وہ ان امکانات کو واقعہ بنانے والے ثابت نہیں ہو سکتے۔

ایک تقابل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو اسلامی انقلاب آیا اس میں تاریخی روایات کے مطابق کل ۱۰۱ آدمی ہلاک ہوئے۔ اس انقلاب کی تکمیل ۲۳ سال میں ہوئی۔ ان ۲۳ سالوں میں جو غزوات پیش آئے ان کی تعداد ام بتائی جاتی ہے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ۲۷ غزوات میں شریک تھے اور عملاً باقاعدہ جنگ صرف چند ہی غزوات میں پیش آئی۔ ان لڑائیوں میں مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس طرح ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page