غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۸
قصدت له فلما حملت عليه السيف فاذا پرا بها رہا تھا۔ میں اس کی طرف لپکا۔ جب میں نے اس۔ امراة فاكر مت سيف رسول الله صلى الله عليه پر تلوار اٹھائی تو اس نے کہا یا ویلاه (ہائے تباہی) اب وسلم ان اضرب به امراة (سيرت ابن هشام جلد ۳ ، صفحه ۱۴) تلوار کو اس سے پاک رکھا کہ اس سے کسی عورت کو قتل کروں اس واقعہ کو ایک صحابی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : پھر میں نے دیکھا کہ ان کی تلوار ہند بنت عتبہ کے سر پر اٹھ گئی ہے مگر اس کے بعد انھوں نے اپنی تلوار اس سے ہٹالی وشتم رایته قد حمل السيف علی مغرق راس هند. بنت عتبة ، ثم عدل السيف عنها) جنگ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو نہ مارا جائے۔ حضرت ابو دجانہ نے عین قتل و خون کے ہنگامہ میں اس کو یاد رکھا اور اپنی چلی ہوئی تلوار کو درمیان سے روک لیا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو اپنے جذبات پر کتنا زیادہ قابو تھا۔ ان کے افعال ان کے شعور کے ماتحت تھے نہ کہ ان کے جذبات کے ماتحت۔ وہ انتہائی اشتعال انگیز موقع پر انتہائی ٹھنڈا فیصلہ کر سکتے تھے۔ وہ غصہ اور انتقام کی آخری حد پر پہنچ کر بھی اچانک اپنا ذہن تبدیل کر سکتے تھے ۔ وہ ایک رخ پر پوری رفتار سے چل پڑنے کے بعد معا اپنا رخ دوسری طرف پھیر سکتے تھے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر عملاً وہ اتنی زیادہ مشکل ہے کہ اس پر کوئی ایسا شخص ہی قادر ہو سکتا ہے جو خدا سے اس طرح ڈرنے والا ہو گویا خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوا ہے اور وہ اس کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ درخت کی طرح آگے بڑھنا قرآن میں انجیل اور تورات کے دو حوالوں کا ذکر ہے۔ تورات کا حوالہ صحابہ کرام کے انفرادی اوصاف سے متعلق ہے۔ اس کے بعد انجیل کے حوالے سے ان کی اجتماعی صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : و مثلهم فى الانجيل كزرع اخرج شطأه فازره اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو ۔ فاستغلظ فاستوی علی سوقه يعجب الزراع اس نے نکالا اپنا انکھوا۔ پھر اس کو مضبوط کیا۔ پھر وہ موٹا ليغيظ بهم الكفار وعد الله الذين آمنوا و ہوا۔ پھر اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ اچھا لگتا ہے کسانوں کو عملوا الصالحات منهم مغفرة واجراً عظيماً تاکہ منکروں کا دل ان سے جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں سے (الفتح ۔ آخر) جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔
موجودہ انجیل میں تمثیل ان لفظوں میں ہے ــــــــ اور اس نے کہا، خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues