Al-Risala · September 1982 · page 39

غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۹

آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے ۔ اور وہ بیج اس طرح آگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے۔ پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے۔ کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا (مرقس ۴: ۳۲-۲۶)

انجیل اور قرآن کی اس تمثیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب کا اجتماعی ارتقاء درخت کی مانند ہوگا۔ اس کا آغاز بیج سے ہوگا، پھر وہ دھیرے دھیرے بڑھے گا اور اپنا تنہ مضبوط کرتے ہوئے اوپر اٹھے گا، یہاں تک کہ فطری رفتار سے تدریجی ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچ جائے گا۔ اس کی ترقی اتنی شان دار ہوگی کہ ایک طرف اہل ایمان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے اور دوسری طرف دشمن دانت پیس رہے ہوں گے کہ اس کا معاملہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کے خلاف ہمارا کچھ بس نہیں چلتا ۔

اسلام کو درخت کی طرح ترقی دینے کے لئے خدا کا یہ منصوبہ تھا جو صحابہ کرام کے ذریعہ انجام پایا۔ تاہم یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ جلد بازی کے بجائے صبر کو اپنا طریقہ بنائیں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ فوری محرکات کے تحت وہ کوئی اقدام نہ کریں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے قوانین فطرت کی پیروی کریں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اس سے بے پروا ہو کر کام کریں کہ نتیجہ ان کی زندگی میں سامنے آتا ہے یا ان کے بعد۔ "درخت اسلام" کو اگانے کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اپنے جذبات کو کچلیں اور اپنی امنگوں کو دفن کر دیں۔ صحابہ کرام نے یہ سب کچھ کیا۔ انھوں نے کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے حوالہ کر دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ زمین میں خدا کا دین ایک ایسے ابدی باغ کی صورت میں کھڑا ہو گیا جس کو ساری دنیا مل کر بھی مٹانا چاہے تو نہ مٹا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page