Al-Risala · September 1982 · page 45

اسلام دور جدید میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۵

موجودہ زمانہ میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنارکھا ہے۔ مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور و شر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے اور کہیں مسلم اقتدار کے خلاف۔ کہیں وہ مسلح جد و جہد کے روپ میں ہے اور کہیں زبانی اور قلمی احتجاج کے روپ میں۔ کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفے کے زیر سایہ کام کر رہی ہے اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملی عنوان اختیار کر رکھا ہے اور کہیں انتظامی عنوان۔ تا ہم سارے فرق و اختلاف کے با وجود نتیجہ سب کا ایک ہے ۔ جدید امکانات کو دعوت توحید اور انذار آخرت کے لئے استعمال نہ کرنا اور اپنی قوتوں کو بے فائدہ طور پر مفروضہ حریفوں کے خلاف محاذ آرائی میں ضائع کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کار کردگی کا ثبوت دیا ہے۔ خدا کے دعوت حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کر کے انہیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے با خبر کر دیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انہوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کر لیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے۔ مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔

قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کرے (حج - ۴۰) ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارہ کو سمجھیں اور خدا کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کر دیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنے زمانہ میں خدائی منصوبہ کو سمجھا اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ کر دیا۔ اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔

بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبہ کا خاموش اعلان ہے۔ یہ کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تا کہ خدا اپنے کائناتی نظام کو اس کے موافق کر کے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالی نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتا تھا، اس کو عام طبیعیاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جائے۔ جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا اس کو مذہبی رواداری

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page