Al-Risala · September 1982 · page 44

اسلام دور جدید میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴

انتظار کر رہی ہے۔ اس قسم کے زندہ افراد اگر مسلمانوں میں سے نکل آئیں قو یہ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے اور اگر ایسے جاندار لوگ مسلمانوں میں سے نہ نکلیں تو خدا کسی دوسری قوم کو یہ توفیق دے گا اور اس کے اندر سے ایسے زندہ افراد اٹھائے گا جو اسلام کی بارش سے نہائیں اور دنیا کو اس میں نہلانے کے لئے اپنا سب کچھ لگادیں (فان تتولوا يستبدل تو ما غيركم ثم لا يكونوا امثالكم)

اوپر ہم نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے متعلق دعا کی کہ خدایا یہ گر وہ (العصابه) اگر ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ اصحاب بدر کل ۳۱۳ تھے۔ مگر یہی ۳۱۳ کی تعداد رسول کی نظر میں فیصلہ کن بن گئی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے غلبہر کے لئے اصل میں جو چیز درکار ہے وہ کسی قسم کی بھیڑ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ بھیڑ کے اندر دعوتی عمل کر کے اس کے زندہ افراد کو اس سے نکال لیا جائے۔ یہ زندہ افراد خواہ ۳۱۳ ہوں مگر ان کو انسانیت کا خلاصہ ہونا چاہئے۔ شعور کے اعتبار سے وہ شعور ربانی کے ہم سطح ہوں اور عمل کے اعتبار سے وہ اخلاق خداوندی کا پیکر بن چکے ہوں۔ ان کا سوچنا اور کرنا دونوں خدا کی میزان عدل میں پورا اتر رہا ہو۔ ایسے گروہ کو چھانٹ کر نکالنا ہی دعوت اسلامی کا اصل مقصود ہے۔ جس دن ایسا گروہ وجود میں آ جائے گا تو خواہ وہ ۳۱۳ جیسی اقلیت میں کیوں نہ ہو وہ خدا کی مدد سے خدا کے دین کو غلبہ کے مقام پر پہنچا کر رہے گا۔ ایسا ایک گروہ ہمیشہ خدا کی فرقان ہوتا ہے۔ اور جو گر وہ خدا کی فرقان بن جائے اس کے لئے اس دنیا میں غلبہ کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔

اسلام دور جدید میں

اسلام چونکہ آخری دین ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے۔ اسی لئے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانہ کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشہ کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچہ کو ایک نسل سے دوسری تک پہنچانے کا کام کر رہی ہیں۔ کچھ اور ادارے قرآن وحدیث کا متن صحت وصفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں مگر بہ حال وہ تحفظ دین کے کام ہیں نہ کہ دعوت دین کے۔ جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے وہ موجودہ زمانہ میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتیٰ کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page