Al-Risala · September 1982 · page 5

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۵

موجودہ زمانہ میں کروڑوں آدمیوں نے قربانی کا ثبوت دیا مگر خدا کی نصرت ان کا ساتھ دینے کے لئے آسمان سے نہیں اتری۔ وہ اس کے باوجود مغلوب ہی بنے رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری یہ تمام قربانیاں حقیقتاً اس صراطِ مستقیم کے مطابق نہ تھیں جس کی پیروی پر خدا نے نصرِ عزیز اور فتحِ مبین کا وعدہ فرمایا ہے۔ (الفتح)

کوئی کسان اگر کہے کہ میں نے گیہوں کے بیج زمین میں ڈالے مگر اس سے گیہوں اگنے کے بجائے جھاڑ جھنکار اُگ گئے تو ایسا کسان جھوٹ بولتا ہے ۔ کیونکہ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ آدمی گیہوں کے بیج بوئے اور اس سے اس کے لئے جھاڑ جھنکاڑا گے۔ یہ نا ممکن ہے، یہ کرور بار نا ممکن ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہماری قربانیاں اگر فی الواقع اس راہ پر ہوتیں جس راہ پر رسول اور اصحابِ رسول چلے اور اپنی جانیں دیں تو ناممکن تھا کہ اتنی غیر معمولی کوششوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے۔ واقعات کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے۔ اگر اس کے باوجود کوئی آدمی خوش فہمی کے گنبد میں رہنا چاہے تو رہے ۔ بہت جلد قیامت اس کے گنبد کو توڑ دے گی ۔ اس کے بعد وہ دیکھے گا کہ وہاں اس کے لئے جھوٹی خوش فہمیوں کے کھنڈر کے سوا اور کچھ نہیں۔ نصرتِ خداوندی قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو خدا تمہاری مدد کرے گا۔ اور تمہارے قدموں کو جما دے گا (یا ایہا الذین آمنوا ان تنصروا ٱللَّهَ ینصرکم و یثبت اقدمکم، محمد، ۷) یہاں خدا کی نصرت کرنے سے مراد خدا کی اسکیم کے ساتھ موافقت ہے، یعنی واقعات کو ظہور میں لانے کے لئے خدا کا جو نقشہ ہے اور اس کے لئے اس نے جو موافق حالات فراہم کئے ہیں ان کے ساتھ اپنی کوششوں کو جوڑ دینا، جو لوگ اس طرح خدا کی نصرت کریں ان کو جماؤ حاصل ہوتا ہے اور بالآخر وہ کامیاب رہتے ہیں۔ خدا کی اس دنیا میں خدا کی منصوبہ سے مطابقت کرکے ہی کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے نہ کہ بطور خود آزادانہ عمل کر کے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ ایک پادری صاحب اپنے مکان کے سامنے ایک ہرا بھرا درخت دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر میں اس کا بیج بوؤں تو وہ دس سال میں پورا درخت بنے گا۔ انہوں نے ایسا کیا کہ کہیں سے ایک بڑا درخت کھدوا یا پھر کئی آدمیوں کے ذریعہ اس کو وہاں سے اٹھوایا اور اس کو لاکر اپنے گھر کے سامنے لگادیا۔ وہ خوش تھے کہ انہوں نے دس سال کی مدت ایک دن میں طے کرلی ہے، لیکن اگلے دن جب وہ صبح کو سوکر اٹھے تو ان کو یہ دیکھ کر بڑا صدمہ ہوا کہ درخت کے پتے مرجھا چکے ہیں۔ شام تک شاخیں بھی لٹک گئیں۔ چند دن کے بعد درخت کے پتے سوکھ کر جھڑ گئے اور اس کے بعد ان کے گھر کے سامنے صرف لکڑی کا ایک ٹھنٹھ کھڑا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page