Al-Risala · September 1982 · page 6

I am in hurry, but God doesn't

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۶

اٹھیں دنوں پادری صاحب کا ایک دوست ان سے ملنے کے لئے آیا۔ دوست نے دیکھا کہ پادری صاحب اپنے گھر کے سامنے بے چینی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ اس نے کہا، آج میں آپ کو غیر معمولی طور پر پریشان دیکھ رہا ہوں، آخر کیا بات ہے۔ پادری صاحب نے جواب دیا ــــ میں جلدی میں ہوں مگر خدا جلدی نہیں چاہتا:

I am in hurry, but God doesn't

اس کے بعد پادری صاحب نے درخت کے مذکورہ قصہ کو بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں ان میں ایک حصہ خدا کا ہوتا ہے اور ایک حصہ انسان کا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دو دندانہ دار پہیوں (Cog Wheels) کے ملنے سے مشین کا چلنا۔ ایک پہ خدا کا ہے، دوسرا پہیہ انسان کا۔ انسان جب خدا کے پہیہ کا ساتھ دیتا ہے تو وہ کامیاب رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ خدا کے پہیے کی رفتار کا لحاظ کئے بغیر چلنا چاہے تو وہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ خدا کا پہیہ مضبوط ہے اور انسان کا پہیہ کمزور۔

خدا نے کروڑوں سال کے عمل سے زمین کے اوپر زرخیز مٹی کی تہ بچھائی جس کے اوپر کوئی درخت اگے۔ سورج کے ذریعہ اوپر سے ضروری حرارت بھیجی۔ آفاقی اہتمام کے تحت پانی مہیا فرمایا۔ موسموں کی تبدیلی کے ذریعہ اس کی پرورش کا انتظام کیا۔ کھرب ہا کھرب کی تعداد میں بیکٹیریا پیدا کئے جو درخت کی جڑوں کو نائٹروجن کی غذا فراہم کریں۔ یہ تمام انتظام گویا خدا کا دندانہ دار پہیہ (Cog Wheel) ہے۔ اب انسان کو اس میں اپنا دندانہ دار پہیہ ملانا ہے تاکہ مذکورہ مواقع اس کے لئے درخت کی صورت اختیار کر سکیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایک بیج لے اور اس کو زمین میں دبا دے۔ اگر وہ ایسا کرے تو گویا اس نے خدا کے پہیے میں اپنے پہیے کو ملایا۔ اس کے بعد فطرت کی مشین چلنا شروع ہو جائے گی اور وقت پر اپنا نتیجہ دکھائے گی ۔ اس کے برعکس اگر انسان اپنا یہ بیج پتھر پر ڈال دے، یا بیج کے بجائے اس کے ہم شکل پلاسٹک کے دانے زمین میں بوئے ۔ یا وہ ایسا کرے کہ بیج بونے کے بجائے پورا درخت اکھاڑ کر لائے اور اس کو اپنی زمین میں اچانک کھڑا کرنا چاہے تو گویا اس نے اپنا پہیہ خدا کے پہیے میں نہیں ملایا، اس نے اپنے آپ کو خدا کے منصوبے میں شامل نہیں کیا۔ ایسے آدمی کے لئے اس دنیا میں ہرے بھرے درخت کا مالک بننا مقدر نہیں۔

یہی معاملہ اسلامی انقلاب کا بھی ہے۔ وہ بھی خدا کے پیدا کردہ مواقع کو سمجھنے اور ان کو استعمال کرنے سے ظہور میں آتا ہے، نہ کہ خود ساختہ قسم کی اچھل کود مچانے سے۔ صدر اول میں جو انقلاب آیا وہ اس لئے آیا کہ خدا کے کچھ بندوں نے اپنا پہیہ خدا کے پہیے میں ملا دیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ میں ہماری تمام قربانیاں اس لئے رائیگاں چلی گئیں کہ ہم نے خدائی منصوبے کے ساتھ موافقت نہیں کی بلکہ خود ساختہ راہوں میں غبیہ متعلق قسم کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page