Al-Risala · October 1982 · page 2

کتنا فرق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲

کتنا فرق

ہمارے اخبارات و رسائل میں جو موضوعات بہت زیادہ رائج ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی شخصیت اپنی عمر پوری کر کے اگلی دنیا کی طرف جاتی ہے تو بڑے جذباتی قسم کے مضامین شائع کئے جاتے ہیں ـــــ روشن چراغ بجھ گیا ، آفتاب علم غروب ہو گیا ، ملت کا چاند دنیا سے چلا گیا وغیرہ ۔ اس قسم کی سرخیاں مرنے والوں کے بعد ہماری صحافت میں اتنی بار شائع ہو چکی ہیں کہ اگر واقعہ یہ صحیح ہوں تو اب تک اتنا زیادہ اندھیرا چھا جانا چاہئے کہ ان سرخیوں کو پڑھنا بھی کسی آنکھ والے کے لئے ممکن نہ رہے۔ " اک چراغ اور بجھا اور بڑھا سناٹا " یہ سرخی یا اس کے ہم معنی سرخی ہمارے اخبارات و رسائل میں عام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر مرنے والا جب صرف ہماری ویرانی اور ہماری تاریکی میں اضافہ کر رہا ہے تو اس کے بعد عقل کس کے پاس ہوگی اور روشنی کہاں باقی رہے گی۔ اور جب روشنی اور عقل رخصت ہو جائے تو کون دیکھنے والا ہوگا جو دیکھے اور کون سمجھنے والا ہوگا جو سمجھے۔ یہ دور زوال کی بات ہے۔ مگر جب ملت زندہ تھی تو کیا حال تھا، اس کی ایک مثال کیجئے۔ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کا انتقال ۸۶ھ میں ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے لڑکے ولید نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس وقت اس کے دوسرے لڑکے ہشام کی زبان سے یہ شعر نکلا :

فما كان قیس هلكه هلك واحد ولكنه بنيان قوم تهدّ ما قیس کی موت تنہا ایک شخص کی موت نہیں بلکہ اس کے مرنے سے قوم کی بنیا د منہدم ہو گئی یہ سن کر ولید نے کہا ، چپ ہو ! تو شیطان کی زبان سے بول رہا ہے۔ تو نے اس طرح کیوں نہ کہا جس طرح ایک اور شاعر نے کہا ہے :

اذا مات مناسيد قام سيّدٌ قولُ لما قال الكرام فعولُ جب ہم میں سے کوئی سردار مرتا ہے تو دوسرا سردار کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ وہی کرتا اور کہتا ہے جو شریف لوگ کہتے اور کرتے ہیں۔

دور زوال میں جب کوئی شخص مرتا ہے تو وہ دوسروں کو صرف مرثیہ کا سبق دیتا ہے۔ دور عروج میں جب کوئی مرتا ہے تو دوسروں کو حوصلہ دے کر نئی زندگی عطا کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page