Al-Risala · October 1982 · page 29

اللہ والے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹

اللہ والے

اے ایمان والو، سود کی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور اس آگ سے ڈرو جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اللہ اور رسول کا حکم مانو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت سارے آسمان اور زمین ہیں اور جو اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جو فراغت اور تنگی دونوں میں خرچ کرتے ہیں۔ جو غصہ کو پی جانے والے ہیں، اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کوئی برا کام ہو جاتا ہے یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ انھیں یاد آ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے گناہوں سے معافی مانگنے لگتے ہیں اور کون معاف کر سکتا ہے گناہوں کو اللہ کے سوا۔ اور یہ لوگ اپنے فعل پر اصرار نہیں کرتے درآں حالیکہ وہ جان رہے ہوں۔ ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا۔ اور ایسے باغوں میں انھیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ کیسا اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کے لئے! (آل عمران ۳۰ - ۱۳۰)

اصلاح کا طریقہ

اور جو کچھ تم کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انھیں غصہ آ جائے تو وہ معاف کر دیتے ہیں ۔ اور جنھوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہی اور انھوں نے نماز قائم کی اور وہ اپنے کام باہم مشورہ سے کرتے ہیں۔ اور ان کو ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان پر چڑھائی کی جائے تو وہ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ، پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو ظلم کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ الزام کے قابل تو وہ ہیں جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو یقیناً یہ ہمت کے کام ہیں (اشوریٰ ۳۴ - ۳۶)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page