Al-Risala · October 1982 · page 30

کامیاب تجارت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۰

کامیاب تجارت

اے ایمان والو، کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تم کو اورد ناک عذاب سے بچادے۔ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کر لو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمھارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور بہترین گھر ابدی جنتوں میں ، یہ ہے بڑی کامیابی اور دوسری چیز جو تم چاہتے ہو، اللہ کی طرف سے نصرت اور جلد فتح ، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو۔ اے ایمان لانے والو، اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ کون ہے اللہ کی طرف میرا مددگار۔ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کیا۔ پس ہم نے ایمان لانے والوں کی تائید کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں، اور وہ غالب ہو گئے (الصف ۱۴-۱۰) نیکی کی حقیقت نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پورب کی طرف کرو یا پچھم کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور آسمانی کتابوں پر اور پیغمبروں پر، اور اپنا پسندیدہ مال رشتہ داروں کو دے، در یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے کے لئے، اور وہ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے، اور وہ لوگ کہ جب عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کریں اور صبر کرنے والے تنگی اور مصیبت کے وقت اور جہاد کے وقت، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں (البقرہ ۱۷۷)

اللہ کی مہمانی

کیا انکار کرنے والے یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں، ہم نے انکار کرنے والوں کی مہمانی کے لئے جہنم بنا رکھی ہے۔ کہو، کیا ہم تم کو بتائیں کہ عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے والے کون ہیں۔ وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں بھٹکتی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کی ملاقات کا یقین نہ کیا۔ پس ان کے اعمال اکارت ہو گئے، قیامت کے دن ہم ان کو کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کا بدلہ جہنم ہے، اس انکار کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page