Al-Risala · October 1982 · page 32

مومن اللہ کا درخت ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲

کیا ہے ، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وہ ہیں اللہ کی طرف پلٹنے والے ، اس کی عبادت کرنے والے ، اس کا شکر کرنے والے ، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے ، اس کے آگے رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے ، اور خوش خبری دے دو ایمان لانے والوں کو (التوبہ ۱۱۲ - ۱۱۱)

مومن اللہ کا درخت ہے

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان کی ، کلمہ طیبہ ایسا ہی ہے جیسے شجرہ طیبہ (اچھا درخت) اس کی جڑ گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے اپنا پھل دیتا ہے ، یہ مثال اللہ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ سوچیں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال شجرہ خبیثہ (برے درخت) جیسی ہے جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے ، اس کے لئے کوئی ٹھہراؤ نہیں۔ اللہ ایمان والوں کو ایک قولِ ثابت کے ذریعہ دنیا و آخرت میں جماؤ عطا کرتا ہے اور ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے اور اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (ابراہیم ۲۴ - اچھی نصیحت اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ بے شک اللہ تم کو بہت اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ اور یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے (النساء ۵۸) جس کو ڈر ہو گا وہ نصیحت پکڑے گا۔ اور اس سے گریز کرے گا وہ بدبخت جس کو بڑی آگ میں جانا ہے۔ پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ کامیاب ہو گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا ، پھر نماز ادا کی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے (الاعلیٰ ۱۷ - ۱۰)

تباہی کس کے لئے

تباہی ہے اس شخص کی جو عیب نکالتا ہے اور غیبت کرتا ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ ہرگز نہیں۔ وہ شخص تو روندنے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تم کیا جانو کہ وہ روندنے والی جگہ کیا ہے۔ وہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page