حج ایک زندہ عمل
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵
حج ایک زندہ عمل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10ھ میں آخری حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی موجودگی میں آپ نے 9 ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ایک مفصل خطبہ دیا جو خطبہ حجة الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے اس حج کو حجة البلاغ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں آپ نے اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کو امت تک پہنچا کر اس سے اس کا عہد لیا تھا۔ چنانچہ خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں :
الا فلیبلغ الشاهد الغائب۔ فرب مبلغ خبردار، جو موجود ہیں وہ میری بات کو غیر موجود تک اوعى من سامع۔ وانتم تسألون عنى ماذا پہنچا دیں۔ کیونکہ پہنچائے جانے والے اکثر سننے والوں انتم قائلون۔ ۔ قالوا نشهد انك قد سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ اور تم سے ادیت الامانة وبلغت الرسالة و میرے بارے میں پوچھا جائے گا پھر تم کیا جواب دو گے ۔ نصحت فقال رسول الله صلى الله لوگوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے امانت عليه وسلم باصبعه السبابة يرفعها ادا کردی اور پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا الى السماء وينكتها الى الناس : اللهم کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان اشهد اللهم اشهد کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ۔
اس واقعہ کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ اس وقت تک اسلام عملاً عرب کے ملک تک پھیلا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب عرب سے باہر نکلے۔ انھوں نے تبلیغ اسلام کو اپنا مشن بنا لیا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اور سارا اثاثہ دین کی اشاعت کی راہ میں لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی وفات کے پچاس سال کے اندر اسلام قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔
اب بھی حج باقاعدہ ادا کیا جاتا ہے اور ” حجة البلاغ“ سے زیادہ بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے امام حج ہر سال اسی قسم کی باتیں دہراتا ہے جو پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے کہی تھیں ۔ مگر آج ان باتوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے حج ایک زندہ عمل تھا، آج وہ ایک روایتی عمل بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حج کے موقع پر جن لوگوں کو خطاب کیا تھا وہ اسی ارادہ اور عزم کے ساتھ وہاں جمع ہوئے تھے کہ ان کو جو ہدایت دی جائے اس کو انھیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues