حج ذریعہ اتحاد
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴
حج کے موقع پر جو افعال کئے جاتے ہیں وہ سب وہی ہیں جو حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کی یادگار ہیں۔ حج کے مناسک انھیں واقعات کا تمثیلی اعادہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کے درمیان مختلف صورتوں میں پیش آئے۔ حاجی بطور شعار (علامت) انھیں حج کے دنوں میں دہراتا ہے اور اس طرح اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ اسی طرح داعی بن کر رہے گا جس طرح حضرت ابراہیم دنیا میں خدا کے داعی بن کر رہے۔ ان میں سے کچھ دعوتی زندگی کے براہ راست مرحلے ہیں اور کچھ بالواسطہ مرحلے۔ حضرت ابراہیم کی زندگی بتاتی ہے کہ حج کے یہ مراسم ان کی دعوتی زندگی کا جزو یا ان کے دعوتی سفر کے مراحل تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے حج اور کعبہ کی زیارت محض ایک قسم کی سالانہ مذہبی رسم بن کر رہ گئی ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوتی شعور اور تبلیغی روح زندہ ہو تو حج کا اجتماع خود بخود دعوتی اہمیت اختیار کرلے گا اور سالانہ دعوتی کانفرنس کے ہم معنی بن جائے گا۔ مگر جب مسلمانوں میں دعوتی روح ختم ہو جائے تو حج اسی طرح ایک بے روح عمل بن کر رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان بنا ہوا ہے۔ وہ پتھر کے شیطان پر کنکریاں پھینکتے ہیں مگر زندہ شیطان کو زیر کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ وہ علامتی اعمال کو دہراتے ہیں مگر حقیقی اعمال کی ادائگی کے لئے ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا۔
حج ذریعہ اتحاد
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا اختلاف وانتشار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حج جیسا نادر اجتماعی ادارہ ان کے درمیان پوری طرح موجود ہے، اس کے باوجود ان کے اندر باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ حج اپنے سالانہ عالمی اجتماع کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے اتحاد کا ایسا طاقت ور ذریعہ ہونا چاہئے جس میں تمام اختلافات پگھل کر رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کاروایتی ہجوم بن کر رہ گیا ہے نہ کہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع۔ اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جوان کی تو جہات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگا دے۔ اگر ایسا کوئی بڑا مقصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے۔ دعوتِ امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانہ کی طرف متوجہ ہو جائے گی۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues