Al-Risala · October 1982 · page 48

حج کی تنظیم نو

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۸

دوسری طرف ان کو دعوتی معلومات سے مسلح کرے۔ حتیٰ کہ اس کے لئے ضرورت ہے کہ اسلام کا جدید بنیادی لٹریچر دوبارہ تیار کیا جائے۔ کیونکہ موجودہ زمانہ میں تفسیر قرآن اور سیرت رسول پر جو کتابیں تیار ہوئی ہیں وہ زیادہ تر ردعمل کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں، وہ غیر قوموں کے فکری اور عملی حملوں کے جواب کے طور پر وجود میں آئیں نہ کہ دعوت اسلام کی مثبت وضاحت کے لئے۔

اب سے چودہ سو سال پہلے کی دور میں چلے جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ اسلام کا پیغمبر تنہا کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ اس وقت اسلام ایک فی دنیا کی تعداد کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر آج ہر دن کثرت سے لوگ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور حج کے زمانہ میں ساری دنیا کے لاکھوں انسان اس طرح ہجوم کر کے مکہ آتے ہیں کہ مسجد حرام کی مسلسل توسیع کے باوجود ہر سال اس کی عمارت ناکافی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تعداد کی یہ کثرت کیسے ممکن ہوئی، جواب یہ ہے کہ دعوت کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حج کا عالمی اجتماع اسلام کی دعوتی قوت کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اسلام کی دعوتی قوت ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام ترقیوں کا راز چھپا دیا ہے۔ اسی میں اہل اسلام کی دنیوی نجات بھی ہے اور اسی میں ان کی اخروی نجات بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کی قوت ہمیشہ دعوت رہی ہے۔ ابتدائی دور میں اسلام اگرچہ مکہ کے عوام کو متاثر نہ کر سکا، مگر وہ سارے قیمتی افراد مکہ کے ابتدائی دور ہی میں ملے جو بعد کو اسلام کی تاریخ کے ستون قرار پائے۔ یہ صرف اسلامی دعوت کا نتیجہ تھا کیونکہ اس وقت اسلام کے پاس کوئی دوسری قوت موجود ہی نہ تھی۔ بعد کو مکہ کے جو لوگ اسلام لائے وہ بھی اسلام کی نظریاتی برتری سے متاثر ہو کر اسلام لائے، مثلاً عمرو بن العاص اور خالد بن الولید وغیرہ۔

دوسرے مرحلہ میں مدینہ میں اسلام کا مستحکم ہونا بھی دعوت ہی کے ذریعہ عمل میں آیا۔ مدینہ پر کبھی کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ صرف چند لوگ اسلام کے داعی بن کر مدینہ پہنچے۔ وہاں انھوں نے سادہ انداز میں اسلام کی دعوت شروع کی ۔ اس کے نتیجہ میں لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ مدینہ اسلام کا فکری اور عملی مرکز بن گیا۔

بعد کے دور میں مغلوں اور تاتاریوں کا مسئلہ اسلام کے لئے پیش آیا۔ یہ وحشی قو میں گھوڑوں پر سوار ہو کر تیراور تلوار لئے ہوئے مسلم ملکوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کے طاقتی مراکز کو زیر وزبر کر ڈالا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کی تاریخ اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح اس سے پہلے بہت سی تہذیبوں کی تاریخ پیدا ہوئی اور ختم ہو گئی۔ مگر عین اس وقت اسلام کی دعوتی طاقت ابھری اور اس نے سارے مسئلہ کو اس طرح حل کر دیا کہ خود فاتح قوموں کو اسلام کا جزو بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page