یہ تضاد
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴
یہ تضاد
ہمارے سامنے ایک دینی پرچہ (اگست ۱۹۸۲) ہے جس کا مقصد اشاعتِ اسلام کی عالمی مہم“ ہے۔ پہلا ورق کھولتے ہی قاری کے سامنے یہ عبارت آتی ہے: "عید اس کی نہیں جس نے کھایا پیا اور مزے اڑائے بلکہ عید در حقیقت اس کی ہے جس نے اپنے عمل کو اللہ کے لئے خالص کر لیا “ بعد کے مضامین میں ایک وہ ہے جو ایڈیٹر صاحب کے بیرون ملک سفر کی رو داد پر مشتمل ہے۔ اس میں ”آرام دہ کار پر سفر “ اور ”پر تکلف دعوت “ کے تذکروں کے ساتھ اپنی بیٹی اور داماد سے ملاقات کا حال بھی درج ہے جو مذکورہ بیرونی شہر میں مقیم ہیں۔ فرماتے ہیں ــــــــ ” اسی شہر کے ایک محلہ میں بشریٰ بیٹی کا مکان ہے۔ چھوٹا سا صاف ستھرا مکان جس میں ضرورت، آرائش اور آرام کی ہر چیز الحمد للہ موجود ہے۔ مکان دیکھ کر اور بشری بیٹی کو خوش و خرم پا کر یہ اختیار خوشی کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی جس کو میں برداشت نہ کر سکا اور بیڈ پر دراز ہو گیا۔ “ اس عبارت میں جس نفسیات کی تصویر ہے وہی آج تمام داعیان دین اور مفکرین اسلام کا حال ہے۔ دوسروں کو وہ ” ضرورت “ پر قانع اور شکر گزار بننے کا درس دیتے ہیں اور خود اپنے لئے ” آرام و آسائش کی ہر چیز “ جمع کر کے الحمد للہ کہنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کے لئے وہ ایسا اسلام پسند کرتے ہیں جس میں آدمی اپنے عمل کو اللہ کے لئے خالص کرنے کو ” عید “ سمجھے اور خود اپنے لئے انھوں نے ایسا اسلام دریافت کر رکھا ہے جس میں کھانے پینے اور مزے اڑانے کا نام ” عید “ ہوتا ہے۔ آج کوئی اسلام کا علم بردار ایسا نہیں جس کو اس بات پر خوشی ہو کہ اس کے بیٹے اور بیٹی دین کی خاطر اپنے ماحول میں اجنبی ہو گئے ہیں۔ یوم الحساب کے خوف نے ان سے ان کے چہرے کی شادابی چھین لی ہے۔ آخرت کی جنت کی تلاش میں دنیا کی جنت کا سران کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ خدا کی یاد نے ان کے ذہنوں پر اتنا غلبہ حاصل کیا ہے کہ اب کسی اور چیز کی یاد میں ان کے لئے لذت باقی نہیں رہی۔ لوگ اگر اس اسلام کو خود اختیار کر لیں جس کی وہ دوسروں کو دعوت دیتے ہیں تو ان کی ساری عافیت ختم ہو جائے۔ ان کا اپنا گھر ان کے لئے وہ میدانِ جہاد بن جائے جس کو ہر ایک نے صرف دور کے کسی مقام پر تلاش کر رکھا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues