اچھا گمان رکھئے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۷
اچھا گمان رکھئے
خلیفہ منصور عباسی وہ شخص ہے جس نے بغداد کا شہر بنایا۔ عباسی دور میں بغداد کو اتنی ترقی ہوئی کہ وہ دنیا کا سب سے عظیم شہر بن گیا۔
بغداد جیسے ایک شہر کی تعمیر بڑا مہنگا منصوبہ تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد خلیفہ منصور کو اس کے اخراجات بہت گراں گزرنے لگے۔ یہ دیکھ کر اس کے ایک درباری ابو ایوب موریانی نے خلیفہ کو مشورہ دیا کہ کسریٰ کے محل جو بغداد سے کچھ فاصلہ پر ہیں ان کو توڑ دیا جائے اور ان کا اینٹ پتھر بغداد کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔
خلیفہ منصور کے وزیر خالد بن برمَک کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ ” امیر المومنین، ایسا نہ کیجئے۔ کسریٰ کے محل اسلام کی فتح کی نشانی ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہماری نسلوں کے اندر اسلام کی عظمت کا یقین بڑھتا ہے ۔ مزید یہ کہ اس کو توڑنے کا جو خرچ ہے وہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے سے زیادہ ہے “ مگر خلیفہ منصور نے خالد بن برمَک کی رائے کی پروا نہیں کی۔ اس نے کہا ”تم کسریٰ کے محل کو توڑنے کی مخالفت اس لئے کر رہے ہو کہ تمھارے اندر ابھی تک عجمیت کا تعصب پایا جاتا ہے“ خالد بن برمَک عجمی (ایرانی) تھا، خلیفہ منصور نے اس کی رائے کو اس کے ایرانی النسل ہونے کے پس منظر میں دیکھا اور سمجھا کہ وہ کسریٰ کا محل توڑنے کی مخالفت اس لئے کر رہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کسریٰ کی عظمت کا نشان باقی رہے ۔
خلیفہ منصور نے کسریٰ کے محل کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ مزدوروں اور کارکنوں کی ایک فوج اس کام پر لگ گئی کہ وہ محل کو توڑنے اور اس کے پتھروں کو گدھوں اور خچروں پر لاد کر بغداد لے آئے۔ مگر بہت جلد منصور کو اندازہ ہوا کہ اس طرح جتنا عمارتى سامان ملتا ہے اس سے زیادہ اس کے اوپر خرچ ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس نے درمیان ہی میں اس کام کو روک دیا۔
کسی کے مشورہ کو مشورہ کی حیثیت سے دیکھئے، اس کو بد نیتی پر محمول نہ کیجئے ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا قیاس غلط ہو اور مشورہ دینے والے نے واقعی وہ مشورہ دیا ہو جو آپ کے لئے سب سے بہتر اور مفید ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues