Al-Risala · October 1982 · page 8

آدمی بدل جاتا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۸

آدمی بدل جاتا ہے

عبدالملک بن مروان ایک اموی خلیفہ تھا، خلیفہ بننے سے پہلے عبدالملک کا شمار بڑے فقہا میں ہوتا تھا۔ وہ زیادہ تر مسجد میں رہتا اور عبادت اور دینی مطالعہ میں مشغول رہتا تھا۔ حتیٰ کہ لوگ اس کو حمامۃ المسجد (مسجد کا کبوتر) کہنے لگے تھے۔ ۶۵ھ میں جب اس کے باپ مروان بن الحکم کا انتقال ہوا تو اس وقت وہ مسجد میں قرآن پڑھ رہا تھا۔ محل کا آدمی اس کے پاس خبر لے کر گیا اور کہا کہ آج سے آپ امیرالمومنین ہیں۔ عبدالملک نے یہ سنا تو فوراً قرآن کو بند کر کے طاق پر رکھ دیا اور کہا:

هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ آج سے میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے۔

خلافت کے تخت پر بیٹھنے کے بعد عبدالملک بالکل دوسرا انسان بن گیا۔ اب اس کا سارا وقت دنیا کی چیزوں میں گزرنے لگا۔ یہی وہ اموی خلیفہ ہے جس نے حجاج بن یوسف جیسے ظالم کو گورنر بنا کر اس کو لوگوں کے اوپر مسلط کیا۔ اس نے عبداللہ بن زبیر اور مصعب بن زبیر اور دوسرے بے شمار لوگوں کو قتل کرایا۔ اس نے اپنے سیاسی حریفوں کو ختم کرنے کے لئے کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے، وغیرہ عبدالملک نے ایک روز سعید بن مسیب سے کہا "سعید اب میرا یہ حال ہے کہ جب میں کوئی نیک کام کرتا ہوں تو میرے دل کو کوئی خوشی نہیں ہوتی اور جب کوئی برائی کرتا ہوں تو اس کا مجھے کوئی رنج نہیں ہوتا۔ سعید بن مسیب نے جواب دیا:

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تمھارا دل پوری طرح مر چکا ہے۔

یہی ہر اس آدمی کا حال ہوتا ہے جو اوپری سطح پر دین دار نظر آتا ہو مگر وہ اپنی پوری ہستی کے ساتھ دین دار نہ بنا ہو۔ ایسے آدمی کو جب کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اچانک اس کا ظاہری لبادہ اتر جاتا ہے اور اندر کا واقعی انسان ننگا ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ ایک شخص بظاہر دین دار ہے مگر کوئی بُرائی ملتے ہی اس کی دین داری ختم ہو جاتی ہے۔ ایک شخص بہت شریف بنا ہوا ہے لیکن اگر کسی سے اس کو شکایت ہو جائے تو اس کے لئے وہ اچانک ایک ظالم انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص مسکینی کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہ رہا ہے لیکن اگر اس کو دولت مل جائے تو اس کے بعد وہ ایک متکبر انسان کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ ایک شخص لکھنے اور بولنے میں انصاف کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آ جائے جس میں اس کو اختیار حاصل ہو تو وہ ایسے پہلو کی طرف جھک جائے گا جو اس کی ذاتی دل چسپی کا ہو۔ وہ انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کرے گا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues

Printed page