Al-Risala · November 1982 · page 15

حضرت محمد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۵

مخالفتوں کی مطلق پر واہ نہ کی ۔ خود حضرت صاحب کے چچا ابولہب اور اس کی بیوی ان کے سخت مخالف ہو گئے ۔ اور انہیں طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے یہاں تک کہ جب وہ صبح کو منہ اندھیرے عبادت کے لئے جنگل میں جاتے تو بچی ان کے راستے میں کانٹے بچھا دیتی اور ان کے پاؤں اور پنڈلیاں زخمی ہو جاتے۔ ایک دفعہ جب یہ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک شخص نے ان کے گلے میں پھندا ڈال کر گلا گھونٹنا چاہا۔ مگر حضرت ابو بکر موقع پر پہنچ گئے اور انھوں نے ان کی جان بچائی۔ جب وہ کھانا کھانے بیٹھتے تو لوگ ان کے کھانے میں کوڑا کرکٹ گرا دیتے۔ کئی دفعہ ان پر گندگی پھینک دیتے۔ ان کی لڑکی کپڑوں پرپانی ڈالی جاتی اور روتی جاتی ۔ مگر یہ کہتے بیٹی کچھ پرواہ نہیں۔ خدا خود میری حفاظت کرے گا۔ اسی طرح ان کے پیروؤں کو بھی لوگ طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ ان کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے ، ان کو گرم ریت پر لٹا دیتے ۔ ان کی عورتوں کو ننگا کر کے بہت بے عزت کرتے۔ مگر یہ لوگ اعتقاد کے ایسے پکے تھے کہ ہر قسم کا دکھ اٹھا کر بھی اسلام کو نہ چھوڑتے اور ہر حالت میں خدا کا شکر کرتے۔

قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان حبش کے علاقے میں چلے گئے۔ اور وہاں کے عیسائی بادشاہ نجاشی کی پناہ لی۔ لیکن وہاں بھی مخالفوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ اور بادشاہ سے جا کر کہا کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے۔ اور ایک نیا دین نکالا ہے۔ جو آپ کے دین کے بھی مخالف ہے۔ انھیں پناہ نہ دو۔ نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر سب حال دریافت کیا۔ اور جب جعفر نے بادشاہ کو بتلایا کہ ہم لوگ پہلے جاہل تھے۔ بت پرستی کرتے تھے۔ گندی اور فحش باتیں بکتے تھے۔ لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے۔ شراب پیتے تھے۔ جوا کھیلتے تھے۔ غرض قسم کی بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ خدا نے ہمارے لئے رسول بھیجا۔ اور اس نے ہمیں نیکی کی طرف مائل کیا۔ یہ سن کر نجاشی کے دل پر بہت اچھا اثر ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ یہ میری پناہ میں آئے ہیں، میں انھیں یہاں سے نکال نہیں سکتا۔ یسن کر مخالفین اپنا سا منھ لے کر واپس چلے گئے ۔ مسلمانوں کے حبش میں چلے جانے کے بعد حضرت صاحب مکہ میں برابر وعظ کرتے رہے۔ اس اثنا میں دو زبردست ہستیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک تو خود ان کے چچا حمزہ جو بہت بار سوخ شخص تھے اور دوسرے عر جو بعد میں حضرت عمرؓ کہلائے۔ حضرت عمرؓ رضہ پہلے ان کے جانی دشمن تھے ۔ اور تلوار گلے میں ڈال کر ان کے قتل کو نکلے تھے۔ مگر قرآن شریف کی چند آیتیں سن کر ان کے پیروئن گئے۔ اور چاریاروں میں شمار ہونے لگے۔ جب ان کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو لوگوں کی مخالفت اور کٹی بڑھ گئی۔ انھوں نے مکہ چھوڑ کر طائف میں قیام کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر وہاں کے لوگ پہلے ہی ان کے مخالف تھے۔ جب ان کا وعظ سنا تو بہت بر افروختہ ہوئے۔ اور انھیں وہاں سے نکال دیا۔ مکہ والوں نے انھیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ مگر ایک شخص مطعم نامی نے لوگوں کو بہت لعنت ملامت کی اور کہا کہ میں محمد کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ اس طرح وہ مکہ میں رہنے لگے۔ مگر شہر لوگ مخالفت سے کب باز آتے تھے۔ انھوں نے مطعم کو بھی تنگ کرنا شروع کر دیا۔ حضرت صاحب نے جب دیکھا کہ میری وجہ سے بے چارے مطعم کو بھی سخت تکلیف دی جاتی ہے تو انھوں 2 کہہ دیا کہ میں اب آپ کی پناہ میں رہنا نہیں چاہتا۔ خدا میرا محافظ ہے۔ جو ہوگا میں برداشت کروں گا۔ مجھے ہر گز گوارا نہیں کہ میرے سبب سے آپ کو تکلیف ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page