Al-Risala · November 1982 · page 16

حضرت محمد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶

اب ان کا وعظ سن کر بہت سے لوگ ان کے پیرو بن کیے۔ فضیل نامی رئیس جو اس ڈر سے کہ ان کا کلام اس کے کان میں نہ پڑ جائے اور اس پر اثر ہو جائے اپنے کان میں روئی ٹھونس لیتا تھا۔ ایک دفعہ جلدی میں ٹھونسنا بھول گیا اور ان کا وعظ سن کر ان کا پیروبن گیا۔ ایک دفعہ جب وہ تاجروں اور جاتریوں کو وعظ کر رہے تھے: تو چند مدینے کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ ان کا وعظ سن کر وہ ان کے پیروبن گئے۔ اور اپنے ساتھ اسلام کا واعظ لے گئے۔ وہاں بہت لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر ان کو مدینہ بلایا۔ چنانچہ بہت سے مسلمان مدینے چلے گئے۔ مدینہ والوں نے حضرت صاحب اور مسلمانوں کا بہت تپاک سے استقبال کیا۔ مسلمانوں کو اپنے گھروں پر ٹھہرایا۔ ان کو کاشت کے لیے اپنی زمینیں دے دیں اور ہر طرح پر ان کو برادرانہ حقوق عطا گئے۔

حضرت صاحب نے کچھ روز مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر قبا نامی آبادی میں قیام کیا۔ حضرت علی بھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں انھوں نے پہلی مسجد نماز کے لئے بنوائی۔ اس کے بننے میں خود آپ نے صحابہ کے ساتھ مل کر مزدوروں کا کام کیا۔ مدینہ والوں کے زور دینے پر آپ مدینہ گئے۔ اور ارادہ کیا کہ جہاں میری اونٹنی ٹھہر جائے گی وہیں قیام کروں گا۔ چنانچہ حضرت ابوایوب کے مکان کے پاس اونٹنی ٹھہری اور آپ نے وہیں قیام کیا۔ وہاں اگر چہ زمین مفت ملتی تھی مگر آپ نے قیمت دے کر زمین خریدی اور یہاں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ محنت مزدوری کر کے مسجد بنائی۔ اس وقت مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ نماز پڑھنا نصیب ہوا۔ اور جمعہ کا دن جماعت کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے کے لئے مقرر ہوا۔ مدینے میں مسلمانوں کی رہائش اور گزارے کا تسلی بخش انتظام کر کے آں حضرت نے یہودیوں کے ساتھ عہد نامہ کر کے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کر لئے۔ اگر چہ افسوس ہے کہ یہودی لوگ اپنے اقرار پر قائم نہ رہے۔ اور بعد میں مسلمانوں کے مخالفوں کے ساتھ ساز باز کر کے انھیں بہت تکلیف دیتے رہے۔

گو اب مسلمان مدینے میں امن و امان سے رہتے تھے۔ لیکن ان کے دشمنوں کو یہ گوارا نہ تھا۔ کہ وہ اس طرح پر آزادی سے اپنا کام کرتے رہیں، وہ تو چاہتے تھے کہ اگر ان کا بس چلے تو مسلمانوں کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ انھوں نے عبداللہ نامی ایک شخص سے جو مدینے میں رہتا تھا اور دل ہی دل میں حضرت صاحب کا روز افزوں رسوخ دیکھ کر بہت جلتا تھا، خط و کتابت کرنی شروع کی اور اس سے کہا کہ حضرت صاحب کو مدینے سے نکال دے۔ مگر جب وہ کچھ نہ کر سکا تو اس نے اور مخالفوں نے آس پاس کے قبیلوں کو مسلمانوں کے برخلاف بہت بھڑکایا۔ اور یہ سب لوگ بہت سی جمعیت لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ آں حضرت جنگ نہ چاہتے تھے۔ مگر مسلمانوں کی حفاظت کے لئے خدا سے دعا کر کے تین سو آدمی لے کر آگے بڑھے اور ان جاں باز لوگوں نے ایک ہزار آدمیوں کو سخت شکست دی اور بہت سے آدمی قید کر لئے۔ حضرت محمد صاحب نے ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا اور ضمانت لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ اس شکست سے مخالفوں کو بہت صدمہ پہنچا۔ اور انھوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کی زبردست تیاریاں شروع کر دیں۔ چنانچہ انھوں نے تین ہزار آدمیوں کی زبردست فوج تیار کی اور بہت سا سامان جنگ جمع کیا بہت سی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page