حضرت کے چند واقعات
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶
سے تے۔ آپ کا دل دشمنی عداوت ، انتقام ، سخت گیری اور درشت کلامی کے ناپاک جذبات سے پاک تھا۔ ہمیشہ معاف اور درگزر کے لئے تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ مکے کی فتح کے وقت بہت سے واقعات سے ظاہر ہوا۔ سچائی، دیانت داری اور الطاف ان کی فطرت کے جزو بن گئے تھے ہر وقت اپنے پیروؤں کو راست بازی کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ ان کی فیاضی بے مثال تھی۔ حتی الامکان کسی کے سوال کو رد نہ کرتے تھے خود تکلیف اٹھا کر اور بھوکا رہ کر دوسروں کے سوال کو پورا کرتے تھے۔ مال و دولت ہر گز جمع نہ کرتے بلکہ جب تک مال تقسیم نہ کر دیتے ان کو چین نہ پڑتا تھا۔ غریب ، یتیم اور محتاجوں کی امداد کو ہر وقت تیار رہتے تھے۔ انھوں نے غلاموں کے حقوق آقاؤں پر قائم کئے ۔ اور عورتوں اور بچوں کے حقوق مردوں پر قائم کئے ۔ جب کسی کی بیماری کی خبر سن لیتے تو اس کی بیمار پرسی کے لئے جاتے ۔ جب کوئی فوت ہو جاتا تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاتے ۔ انسان کا تو ذکر کیا وہ بے زبان جانوروں پر بھی بہت ترس کھاتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے جانوروں کی لڑائی کو عرب کے ہر مقام پر بالکل بند کر دیا تھا۔ لاغر جانوروں کو دیکھتے تو کہا کرتے اے لوگو ! بے زبانوں کے بارے میں خدا سے ڈرو ۔ مہمان نواز اول درجے کے تھے جب کوئی مہمان آ جاتا تو اپنا کھانا اس کو کھلا دیتے ۔ آپ بہت شیریں زبان تھے ، سب سے بہت نرمی اور ملائمت سے گفتگو کرتے تھے۔ آپ ہر گز کسی کو بددعا نہیں دیتے تھے۔ خداوند تعالیٰ کی بخشش و رحمت پر ایسا زبردست اعتقاد رکھتے تھے کہ بڑی بڑی مصیبتوں میں حوصلہ نہ ہارتے تھے۔ اسی وجہ سے مٹھی بھر آدمیوں سے دشمنوں کے ٹڈی دل کا مقابلہ کامیابی سے کرتے رہے۔ غارِ ثور میں جب جا کر ابو بکر کے ساتھ چھپے تھے تو دشمنوں کی آہٹ سن کر ابو بکر رض گھبرا گئے اور کہا کہ اے رسول ! اب ہم دو ہیں۔ زور سے کہا نہیں ہم تین ہیں ۔ یعنی تیسرا خدا ہمارے ساتھ ہے ۔ کیسا زبردست ایمان ہے ۔
حضرت کے چند واقعات
ہم ذیل میں حضرت صاحب کے متعلق چند روایات درج کرتے ہیں جن سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ خداوند تعالیٰ نے ان کو کیسی کیسی خوبیاں عطا کی تھیں ۔
۱۔ ایک یہودی کا کسی مسلمان سے جھگڑا ہو گیا اور فیصلہ آن حضرت پر چھوڑ آگیا ۔ حضرت نے بے رو رعایت تحقیقات کی اور فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ اور مسلمانوں کی ناراضگی کی مطلق پروانہ کی۔
۲۔ ایک شخص کو چوری کے الزام میں گرفتار کر کے ان کے سامنے پیش کیا گیا کہ کئی بڑے بڑے آدمیوں نے اس کی سفارش کی مگر آنحضرت نے انصاف کو مد نظر رکھ کر سفارشوں کی مطلق پروانہ کی۔ اور حکم دے دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے لئے یہ ہی حکم دیتا کہ اس کے ہاتھ کاٹ دئے جائیں۔
۳۔ ایک دفعہ ایک یہودی کا کچھ روپیہ حضرت کو دینا تھا۔ وہ یہودی تقاضا کرنے آیا اور سخت کلامی کرنے لگا۔ حضرت عمر رض کو اس پر بہت غصہ آیا مگر حضرت صاحب نے فرمایا۔ اے عمر ! یہ بات ٹھیک نہیں۔ تجھے چاہئے تھا کہ ہم دونوں کو نصیحت کرتا کہ قرض خواہ کو نرمی سے مطالبہ کرنا چاہئے۔ اور مجھے نیکی سے روپیہ واپس کرنا چاہئے۔ حضرت نے یہودی کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues