Al-Risala · November 1982 · page 20

حضرت محمد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲۰

انسانی مساوات کا دل کش اور دل فریب منظر تھا۔ اور سب اپنے محبوب کے گرد جمع ہو کر اپنے خالق خداوند تعالیٰ کی پرستش اور عبادت میں مصروف تھے۔

اب میں بائیس سال کی لگاتار محنت اور مخالفوں کی سختیوں اور اذیتوں اور نیز جنگ و جدل وملکی انتظام کی اہم ذمہ داریوں کی وجہ سے آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا تھا۔ اگر کوئی اور ہوتا تو شاید ان مشکلات کا کبھی کا شکار ہو گیا ہوتا۔ مگر انسان آخر انسان ہے اس کی جسمانی طاقتیں آخر جواب دینے لگتی ہیں چنانچہ آپ سلام میں بیمار ہو گئے۔ حضرت عائشہ اور ان کے رفیقوں نے ان کی تیمار داری میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ آخری دن مسواک سے منھ صاف کیا۔ اور دو شنبہ کے دن ۸ جون ۶۳۲ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ مسلمانوں کو ان کی جدائی کا بے حد رنج ہوا۔ مگر حضرت ابو بکر نے ان کو بہت بہت دلا سا دیا۔ آخر وہ سب اس واقعہ کو خدا کی مرضی سمجھ کر چھاتی پر پتھر رکھ کر کے بیٹھ گئے۔

آں حضرت کی عادات بہت سیدھی سادی تھیں۔ ہمیشہ موٹا کپڑا استعمال کرتے تھے۔ کرتہ، چادر اور تہ بند کے سوائے اور کپڑا نہ پہنتے تھے۔ خوراک کی سادگی کا تو یہ حال تھا کہ شاید غریب مزدور بھی آج کل ایسی سادہ خوراک نہ کھاتا ہو۔ جو کا آٹا ہانڈی میں آگ پر چڑھادیا اور اوپر سے کچھ زیتون کا تیل، زیرہ اور کالی مرچیں ڈال دیں اور آپ کا کھانا تیار ہو گیا۔ اکثر کھجوریں کھا کر ہی گزارہ کیا کرتے۔ غرض جو سامنے آتا وہی خدا کا شکر کر کے کھا لیتے تھے۔ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ خود اپنے ہاتھ سے اپنے مکان میں جھاڑو دے لیا کرتے تھے۔ اپنے کپڑے خود دوہ لیا کرتے تھے اور پھٹے پرانے کپڑے خود سی لیا کرتے تھے۔ ان کے مکان میں ایک چار پائی، ایک پانی کی تھیلیا اور ایک بورے کے سوائے اور سامان موجود نہ رہتا تھا۔ ہمیشہ وہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ادائیں عمر میں وہ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ گھر بار کے کام کاج میں اپنی بیویوں کا ہمیشہ ہاتھ بٹاتے تھے ۔ بکریوں کا دودھ دھو لیتے تھے۔ جوتیاں خود گانٹھ لیتے تھے۔ بازار سے سودا سلف خرید لاتے۔ اونٹوں کو باندھ لیتے ۔ اور ان کے آگے چارہ ڈالتے تھے۔ غرض کسی قسم کے کام سے انھیں عار نہ تھی۔ مسلمانوں کے ساتھ مل کر انھوں نے مسجدیں بنائیں ۔ مزدوروں کا کام کیا۔ کھانے سے پہلے اور پیچھے ہاتھ دھوتے اور منھ کو خوب صاف کرتے تھے۔ دانت (مسواک) کیا کرتے تھے۔ بالوں میں ہمیشہ کنگھی کرتے اور کبھی کبھی تیل بھی لگایا کرتے تھے۔

انھوں نے اپنی سادہ زندگی سے یہ ثابت کر دیا کہ کسی قسم کا کام یا پیشہ ذلیل نہیں، بشرطیکہ راست بازی اور دیانت داری کو مد نظر رکھا جائے ۔

مزاج میں انکساری غضب کی تھی۔ کوئی تعظیم کو کھڑا ہوتا تو اسے منع کر دیتے ۔ خواہ کوئی غلام بھی کھانے کو بلاتا تو اس کے ہاں بلا تکلف چلے جاتے اور سب کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے۔ جب کسی مجمع میں جاتے تو سب کے ساتھ مل کر بیٹھتے تھے۔ جب کوئی دوسرا بات کرتا تو اس میں ہرگز دخل نہ دیتے تھے۔ اگر کچھ کہنا ضروری ہوتا تو بہت حلیمی اور عاجزی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page