Al-Risala · November 1982 · page 2

خدا کی نشانیاں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۲

خدا کی نشانیاں

میکسوی وہ شخص ہے جس نے فطرت میں برقی مقناطیسی تعامل کے قوانین کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ریاضیاتی مساوات میں بیان کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب عظیم جرمن سائنسداں بولٹرمین نے اس کو دیکھا تو اس نے تعجب کے ساتھ کہا کہ کون وہ خدا ہے جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں۔ Maxwell put the laws of electromagnetic interactions into equations so marvellous that when the great German physicist, Boltzmann, saw them he exclaimed, ‘Who was the God who wrote these signs?’ کائنات کا مطالعہ کرنے والے کے لئے سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہر مطالعہ بالآخر ایک ایسی چیز پر ختم ہوتا ہے جو انتہائی پر اسرار طور پر حکیمانہ ہوتی ہے۔ کائنات اپنے آخری مطالعہ میں ایک حد درجہ منظم واقعہ ہے نہ کہ کوئی بے ترتیب انبار۔ یہ حقیقت ہر واقف کار کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ کائناتى واقعات کے پیچھے کوئی برتر ذہن کام کر رہا ہے۔

آئن سٹائن ایک خالص سائنسی مزاج کا آدمی تھا۔ تا ہم اس نے اقرار کیا ہے کہ میں طبیعیات داں سے زیادہ ایک فلسفی ہوں۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ ہمارے باہر بھی ایک حقیقت ہے :

I am more a philosopher than a physicist,

for I believe there is a reality outside of us The World As I See It. آئن سٹائن اپنے اس ذہن کی وجہ ل سے کہتا ہے کہ اس معنی میں میں بھی ایک پکا مذہبی آدمی ہوں :

In this sense, I belong to the ranks of devoutly religious men کائنات خدا کی نشانی ہے۔ وہ مخلوق کے روپ میں خالق کی تصویر دکھاتی ہے۔ جو شخص کھلے ذہن کے ساتھ کائنات کو دیکھے گا وہ اس کے اندر اس کے خدا کو پالے گا۔ البتہ جن کے ذہن میں ٹیڑھ ہو وہ عین روشنی کے درمیان بھی اندھیرے میں رہیں گے، وہ خدا کے قریب کھڑے ہو کر بھی خدا کو نہ پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page