Al-Risala · November 1982 · page 3

یہ فرق کیوں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳

یہ فرق کیوں

ملک کے کسی شہر میں فرقہ وارانہ فساد کی خبر معلوم ہو تو تمام مسلم لیڈر اچانک جاگ اٹھتے ہیں۔ کوئی پر شور بیان دیتا ہے۔ کوئی جو شیلی تقریر کرتا ہے، کوئی حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات کے لئے دوڑ پڑتا ہے۔ کوئی ریلیف فنڈ قائم کر کے چندہ جمع کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی باہر کے دورہ پر ہو تو وہ اپنا بیرونی دورہ مختصر کر کے فوراً ہوائی جہاز سے واپس آجاتا ہے تاکہ مصیبت زدگان کی مدد کر سکے۔

مگر یہی مسلم لیڈر جو اجتماعی فساد میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے اتنی تیزی دکھاتے ہیں، وہ انفرادی فساد کے موقع پر بالکل بے حس بنے رہتے ہیں۔ ان کے اپنے شہر میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستارہا ہو یا کوئی مسلمان خود ان کی اپنی فساد انگیزی کا شکار ہو رہا ہو تو ایسے موقع پر ان سے کی گئی ہر فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے۔ قوم کے ظلم پر بے چین ہو جانے والے لوگ فرد کے ظلم پر اس طرح بے حس و حرکت بنے رہتے ہیں جیسے ان کے سینہ میں دل نہیں بلکہ خشک پتھر ہے۔ وہ انسان نہیں بلکہ ایک ایسی مخلوق ہیں جو رحم اور ہمدردی اور انصاف جیسی چیزوں سے آشناہی نہیں۔

یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ ان لیڈروں کی تمام سرگرمیاں اپنے قیا دتی مصالح کے تحت ہیں نہ کہ خدا کو خوش کرنے کے لئے۔ اگر ان کو خدا کی خوشنودی عزیز ہو، اگر وہ آخرت کی پکڑ سے ڈرتے ہوں تو وہ ہر ظلم پر تڑپ اٹھیں گے۔ ہر شخص کی مصیبت میں اس کے کام آنے کی کوشش کریں گے۔ مگر ان کے دل میں خدا اور آخرت جیسی چیزوں کا کوئی خانہ نہیں۔ ان کو تو صرف اپنی قیادت عزیز ہے اور قیادت ہمیشہ عوامی شہرت کے واقعات میں حصہ لینے سے چمکتی ہے نہ کہ انفرادی مصیبت میں کسی کے کام آنے سے۔ پھر کسی فرد کو مصیبت سے نکالنے کے لئے وہ کیوں اپنی جان کھپائیں۔ بے فائدہ طور پر کس لئے اس میں اپنا وقت ضائع کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page